اردو کہانی

اردو افسانہ کیا ہے؟ افسانے کی تعریف کیا ہے

اردو افسانے کے بارے میں جانے افسانہ کیا ہے۔۔afsana

اسلام علیکم میں ہوں محمد وقاص ہم اپنے ویبسائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آج ہم بتانے والے ہیں وہ ہے افسانہ— دوستو: ہم افسانے کے متعلق تعریفات اور افسانہ کسے کہتے ہیں اور افسانے کی ارتقاء اور اور افسانے کی ترکیب یہ سب چیزیں ہم آپ کو بتانے والے ہیں تو چلے ہم موضوع کے جانب بڑھتے اور آغاز کرتے ہیں کہ افسانہ کیا ہے؟ 

افسانے کی تعریف،اور افسانہ کیا ہے؟|afsana kya hai

دوستو:۔۔ سب سے پہلے ہم افسانے کی تعریف جانیں گے کہ افسانہ کیا ہے؟ افسانہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قصہ یا کہانی کے ہیں انگریزی میں اسے شارٹ سٹوری کہتے ہیں ایسی مختصر کہانی جو ایک نشست یعنی ایک آدھ گھنٹے میں بڑی جاسکے اور جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو کو بیان کیا جائے وہ افسانہ کہلاتے ہیں دیگر اصناف کی طرح یہ سند بھی مغرب سے ہمارے ہاں آئی اور مختصر سے عرصے میں نثری ادب کی اس صنف نے دوسری اصناف کی طرح اپنی الگ پہچان بنا لی اب بڑھتے ہیں افسانے کی ارتقاء کی جانب جہاں تک تاریخی ارتقاء کے پس منظر میں افسانے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں بہت سے نظریات ہمیں ملتے ہیں کچھ نہ کہا یہ سمجھتے ہیں کہ منشی پریم چند اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار ہیں اور ان کے افسانہ۔۔۔۔ دنیا کا سب سے انمول رتن۔۔۔۔ کو اردو ادب کے پہلے افسانے کے طور پر دکھاتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری سجاد حیدر یلدرم کو پہلا افسانہ نگار مانتے ہیں اور ان کے افسانہ نشے کی پہلی ترنگ۔۔۔۔ کو اردو ادب کے پہلے افسانے کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن جدید تحقیق ان دو نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے جدید ناک دن راشد الخیری کو پہلا افسانہ نگار تسلیم کرتے ہیں اور ان کے افسانہ نصیر اور خدیجہ جوکہ دسمبر 1903 میں رسالہ مخزن میں شائع ہوا اسے اردو کا پہلا افسانہ مانتے ہیں یہ افسانہ فنی لحاظ سے کمزور تو ضرور ہے لیکن بہرحال یہ ابتدا کا سہرا راشدالخیری کے سر ہی جاتا ہے۔

افسانے کی اجزائے ترکیبی۔۔

دوستو اب بڑھتے ہیں افسانے کی اجزائے ترکیبی کی جانب افسانے کا سب سے پہلا جز پلاٹ ہے۔۔۔ پلاٹ کہانی میں مختلف واقعات کے آفس میں ربط اور تسلسل کو پلاٹ کہتے ہیں یعنی کسی بھی کہانی میں مختلف واقعات کی ترتیب کو پلاٹ کہا جاتا ہے اگر واقعات کی ترتیب درست ہو تو اسے ہم مضبوط پلاٹ کہتے ہیں اور اگر واقعات کی ترتیب الٹ ہو اور آگے پیچھے ہو یعنی پہلے کے واقعے کو بعد میں اور بعد کے واقعات کو پہلے بیان کیا جائے تو اسے ڈھیلا پلاٹ کہیں گے افسانے کی دوسری جز ہے کردار نگاری۔۔۔ جدید افسانے میں کردار نگاری کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن چونکہ افسانہ زندگی کے کسی خاص پہلو پر ہوتا ہے اسی لیے زندگی کا یہ پہلو کرداروں کے بغیر ناممکن ہے کردار نگاری کے ذریعے کسی بھی معاشرے کی عکاسی بھی کی جاتی ہے افسانہ چونکہ مختصر ہوتا ہے اسی لئے کردار نگاری کرتے وقت افسانہ نگار کو کافی مشکل اور دشواریاں پیش آتی ہے۔ افسانے کی تیسری جز اسلوب ہے۔۔ افسانہ مختصر ہوتا ہے اسی لئے اس میں غیر ضروری الفاظ کی قطعی اجازت نہیں ہوتی کم لفظوں میں زیادہ بات کہنی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افسانے کی زبان کو سادہ اور روا بھی ہونا چاہیے اور دلکش بھی ہونا چاہیے تاکہ قاری اس کی گرفت سے باہر نہ جا سکے۔ افسانے کی چوتھی جز آغاز و اختتام ہے۔۔ افسانے کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار آغاز اختتام پر بھی ہوتا ہے افسانے کا آغاز ایسا ہو کہ قاری فورا اس کی طرف متوجہ ہوں اب یہ افسانہ نگار کا ہنر ہے کہ وہ قاری کی توجہ کو افسانے سے ہٹنے نہ دے ہر وقت یہ تجسس باقی رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے اور جب کہانی ختم ہو تو اس طرح کے پڑھنے والا مدتوں اس کی گرفت سے باہر نہ نکل سکے اور آخر جز  ہمارے پاس ہے وحدت تاثر۔۔۔افسانہ دوسری طرح کی کہانیوں سے اس لحاظ سے منفرد اور ممتاز ہے ۔۔ اس میں واضح طور پر کسی ایک شے کی ترجمانی ہوتی ہے۔ایک کردار ایک واقعہ ایک ذہنی کیفیت ایک جذبہ ایک مقصد مختصر یہ کہ افسانے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے ہے وہ ایک ہوتا ہے افسانے کی یہ خاصیت ہے کہ اپنے اختتام پر قاری کے ذہن پر واحد تاثر قائم کرتا ہے اور اسے ہی وحدت تاثر کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:جونولنکیسٹر کی درد بھری کہانی

یہ بھی پڑھیں:اردو افسانہ کیا ہے؟ افسانے کی تعریف کیا ہے

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button