حمد

حمد و نعت و منقبت اور قصیدہ کی تعریف۔ حمدونعت کسے کہتے ہیں؟

حمد و نعت و منقبت اور قصیدہ کسے کہتے ہیں؟

السلام علیکم دوستو: میرا نام محمد وقاص ہے اس مواد میں ہم حمد، نعت، منقبت، اور قصیدہ، کے درمیان فرق کو واضح کریں گے ہم آپ کو ابھی سے یہ بتا دیں کہ ہمارا جو یہ ٹیگ لائن یہ لگا ہوا ہے کہ سوال یہ ہے کہ حمد، نعت، منقبت، اور قصیدہ، میں کیا فرق ہے؟ ہم یہ جانتے نہیں ہیں اسی لیے ہم نے یہ سوال لگایا ہے اور اس کے بعد ہم نے لکھا ہے کہ حمد نعت منقبت اور قصیدے میں فرق حمد نعت منقبت اور قصیدے کے درمیان جو بھی فرق ہے ہم اس کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے-

حمد و نعت و منقبت اور قصیدہ نظم کے ہی اقسام ہیں دوستوں ان چاروں کے درمیان شفاعت بیان کی جاتی ہیں فرق بیان کرنے سے قبل اس کی تعریف سمجھ لینی چاہیے تاکہ ہم کو فرق آسانی سے سمجھ میں آجائے۔

حمدونعت منقبت اور قصیدہ کی تعریف۔

حمد وہ کلام ہے جس میں اللہ رب العزت کی توصیف بیان کی جائے اس کو حمد کہتے ہیں اسی طرح نعت وہ کلام ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی جائے اس کو نعت کہتے ہیں اگلا ہے منقبت وہ کلام ہے جس میں اصحاب و اولیاء کی توصیف بیان کی جائے اس کو منقبت کہتے ہیں اور اسی طرح سے قصیدہ وہ کلام ہے جس میں عام لوگوں کی تعریف بیان کی جائے اس کو قصیدہ کہتے ہیں آپ تعریف کی روشنی میں فرق سمجھ ہی گئے ہوں گے-

دوستو: لیکن یادداشت کے لیے بتاتے ہیں کہ حمد نعت منقبت اور قصیدہ کے مابین فرق یہ ہے کہ جس نظم و شاعری میں اللہ کے صفات بیان کئے جائیں وہ حمد کہلاتے ہیں اور اسی طرح سے نعت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں اور اچھائیاں بیان کی جاتی ہیں تو وہ نعت کہلاتی ہیں جبکہ منقبت اس سے مختلف اس تور پر ہے کہ بزرگان دین کے اوصاف حمیدہ عقیدت و محبت کے لیے منظوم کیے جاتے ہیں اور اسی طرح قصیدہ میں کسی بھی عام شخص کی خوبیاں شعری قالب میں پیش کئے جاتے ہیں تو وہ قصیدہ ہوتے ہیں یہ تو عام فرق معلوم ہوگیا لیکن ان چیزوں کے درمیان بنیادی فرق معلوم ہونا ضروری ہے تو ہم بنیادی فرقہ کی طرف آتے ہیں۔

 حمد اور نعت میں بنیادی فرق یہ ہے

حمد اور نعت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حمد اور نعت دونوں ہی نظم ہیں جبکہ حمد ایسی نظم ہے جس میں اللہ کی تعریف و توصیف کے لیے بے شمار صفات استعمال کرتے ہیں اسی طرح نعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے لئے چند مخصوص صفات کا ہی بیان ہوتا ہے یا استعمال کرتے ہیں۔ شاعر اپنے خیالات کا اظہار کچھ حدود و قیود کی پابندی کے ساتھ کرتا ہے۔ لہذا صنف اور ہئیت کے لحاظ سے دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں ہے اس لئے دونوں کی تعریف لفظوں اور آداب معیاری طریقوں کو پیش نظر رکھ کر کی جائے حمد اور نعت میں حد فاصل حاصل ضرور ی ہے حمد عشق الہی کا مظہر ہے ہے اور اللہ کی بے شمار خوبیوں اور صفتوں کا تذکرہ ہو شاعر کا لہجہ عاجزانہ ہو زبان پاکیزہ شستہ و بلیغ الفاظ والی استعمال کرتا ہوں اور آخری شعر میں مغفرت و بھلائی کی دعا بھی ہو جبکہ نعت میں لفظوں کا انتخاب اچھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق ہوں ساتھ ہی چند صفات کا پایا جانا لازمی ہے۔ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبے کے مطابق ہو پر سوز اور پرتاثیر گئی بھی ہو۔

حمد و نعت و منقبت اور قصیدہ  کی تعریف اور فرق فیگر میں دیکھ لیجئے۔

بنیادی فرق، اللہ کی صفات کی گنتی نہیں ہوسکتی اس لیے صفات جتنی چاہے پیش کریں۔ فرق صرف اللہ رب العزت کی بے حدود حساب صفحات کا بیان ہوتا ہے۔ حمد و کلام ہے جس میں اللہ رب العزت کی توصیف بیان کی جائے اس کو حمد کہتے ہیں
بنیادی فرق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اللہ کے مقابلے کم ہی گنتی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ فرق، صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ نعت وہ کلام ہے جس میں آپ صلی اللہ وسلم کی تعریف بیان کی جائے اس کو نعت کہتے ہیں
بنیادی فرق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں خوبیاں کم ہے رق، صحابہ خلفائے راشدین اولیاء اللہ کے خصائل و فضائل کا تذکرہ ہوتا ہے منقبت وہ کلام ہے جس میں صحابہ و اولیاء کی توصیف بیان کی جائے اس کو منقبت کہتے ہیں
بنیادی فرق عام انسانوں کی اچھائیاں تو بس اتنی ہی جس کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں معمولی ہیں فرق،بادشا فقیر وغیرہ کے خصوصیات وہ خوبیاں بیان کی جاتی ہیں قصیدہ وہ کلام ہے جس میں عام لوگوں کی تعریف بیان کی جائے اسے قصیدہ کہتے ہیں

اب یہاں سےآپ دونوں چیزوں کو صرف ایک فیگر میں دیکھ لیجئے کہ حمد وہ کلام ہے جس میں اللہ رب العزت کی توصیف بیان کی جائے اس احمد کہتے ہیں نعت کلام ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف یعنی ہم اسی طرح سے ہم نے یہاں پر تعریفات پیش کر دی ہیں دوسرے میں صرف فرق ہر ایک کے درمیان جو فرق ہو سکتا ہے اس فرق کو واضح کردیا گیا ہے یعنی  آپ دیکھ لیجئے کی صفات تو سب میں بیان کی جاتی ہیں اور سب میں ان صفات کو بیان کی جاتی ہیں تو کسی سے کم ہوتے ہیں اور کسی کے زیادہ ہوتے ہیں اللہ کی صفات اتنی ہیں کہ ہم انکو گن نہیں سکتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کم بھی ہے اور وہ گنے بھی جا سکتے ہیں البتہ آپ کے سامنے یہ شاعرانہ طور پر ہی پیش کی جاتی ہیں اصلی فرقا یہاں پر حمد اور نعت کے ہی پیش کئے جاتے ہیں حمد اور نعت اگر سمجھ جائیں تو یہ تو عام ہے ہم سمجھ ہی جائیں گے۔ جس میں قدرے دشواری ہوتی ہے اس میں بس صفات کا کھیل ہے آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات محدود ہیں اللہ کی صفات لامحدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اللہ کی تعریف ۔حمد باری تعالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button