مذہب

دہشت گردی کیا ہے؟What is terrorism

دہشت گردی کیا ہے؟

 دہشت گردی، آتنکوادیاTerrorism معنی خوف و ہراس اور ہبیت ودہشت پھیلانا ہے، اپنے مقصد کے حصول کے لئے معصوم، بے گناه، بے قصور لوگوں کی جان، مال، عزت، آبرو اور  مذہب و مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا،ڈرانا، دھمکانا،خوف وہراس کا ماحول پیدا کرنا دہشت گردی ہے۔

یاد رکھئے!

صرف بم دھماکے ہی  دہشت گردی(Terrorism) نہیں۔ بلکہ ظلم و ستم اور خوف و ہراس پھیلانے والی ہر حرکت دہشت گردی ہے،حاکم کا اپنی رعایا پر ظلم کرنا محکوم ومجبورحق والوں کاحق مارنا اور حق کی آواز دبانے کے لئے کی جانے والی تمام کوشش وحربے دہشت گردی ہے۔بے قصورو مظلوم لوگوں پر پولیس کا ظلم اور قانون کا غلط استعمال کر کے انھیں جیلوں میں بند کر دینا بھی دہشت گردی ہے۔نکسلی قتل عام کریں وبھی دہشت گردی ہے۔ماؤ وادی جو خون کی ہولی کھیلیں وہ بھی دہشت گردی ہے۔ الفا کا ظلم بھی دہشت گردی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات برپا کر کے مسلمانوں اور اقلیتوں کا قتل عام کرنا بھی Terrorismدہشت گردی ہے۔ بھگوانتظیموں کا گھر واپسی کے نام سے ملک میں بد امنی اور خوف و ہراس پھیلانا اور بے بسوں اور کمزوروں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنا بھی دہشت گردی ہے۔ تو گڈیا اور اس جیسی گندی ذہنیت رکھنے والے تعصب پرست لوگوں کا غریبوں اور مسلمانوں کو اپنے گھر اور بستیاں کھالی کرنے پر مجبور کرنا بھی دہشت گردی ہے۔ عیسائیوں، سیکھوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم کرنا، چرچ جلانا، دلیت لڑکیوں کو گاوں میں برہنہ گھومانا انہیں آئینی بنیادی حقوق سے محروم کر دینا بھی Terrorismدہشت گردی ہے۔ اسلام تمام قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج لوگوں نے آتنکواد اور دہشت گردی کو ناپنے اور جانچنے کے دو پانے بنارکھے ہیں۔

 

اول تو کوئی بھی واردات ہوختیٰ کہ مسجدوں میں ہونے والے بم دھماکوں کوبھی اسلام
ہی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے لیکن پھر کبھی ایمانداری و دیانتداری سے تحقیق پر کسی ہندوتنظیم یا افراد یا ماؤادی نکسل وادی، الفاء وغیرہ کا نام سامنے آتا ہے تو کسی  نہ کسی طرح ان کی اس حرکت کی تاویل کرنے اور اسے جائز ٹھرانے یا ہلکا و معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بینگلور دھماکے میں اول تو ایک مسلمان ہی کو مشتبہ بتایا گیا اور طرح طرح کیTerrorism دہشت گردانہ خبریں اس سے جوڑ دی گئی، لیکن اتفاق سے وہ مشتبہ ہندو نکلا تو کہ دیا گیا کہ وہ پاگل شخص تھا، اور یہی نہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے دھمکیاں دینے والے، خوف و ہراس اور انہیں پھیلانے والے عقل و جانچ پر غیر مسلم ثابت ہوئے ہیں، اور میڈیا نے ان واقعات پر پردہ پوشی یا چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے اپنے منصب سے خیانت کی ہے۔

میڈیا، Media

میڈیا کسی بھی ملک کی تیسری آنکھ ہے۔ ملک کے بنانے یا بگاڑنے میں میڈیا کا بڑا کردار ہوتا ہے، پولیس اور میڈیا ملک سے وفاداری اورسچائی کا عہد کر لیں اور ملک کا نظام چلانے میں اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں، تو انشاء اللہ ملک میں کوئیTerrorism دہشت گردانہ واردات نہیں ہوگی۔ لیکن افسوس! پولیس تو دور کی بات، ہماری میڈیا بھی اس جھوٹ ، تعصب اور بے وفائی کا شکار ہے۔

کسی بے قصور مسلمان کی گرفتاری پر پولیس کی جھوٹی کہائی کولیکرتو الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں بڑی سرخیاں بنائی جاتی ہیں اور ملک بھر کا میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، لیکن جب عدالت میں پولس کا جھوٹ بے نقاب ہو جاتا ہے اور سچائی سامنے آ جاتی ہے، تب میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

 چنانچہ یہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا ہے، میڈیا پہلے روز سے ساری سچائیاں جانتا تھا کبھی
کبھی ان سچائیوں کی ہلکی جھلک بھی اخبارات میں نظر آ جاتی تھی ، لیکن عام طور پر کرائم برانچ کی جھوٹی کہانیاں ہی ان کے اخبارات کی زینت بنتی تھی، ابتداء میں روزانہ ان نئی نئی مصالے دار چٹاکے دار کہانیاں شائع کر کے مسلمانوں کو احساس جرم اور احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن افسوس! 11رسال کے اس طویل عرصہ کے بعد سپریم کورٹ کے زرلی ساری پایاں سامنے آگئی،تب ہماری گرفتاری کی سرخیاں بنانے والے رہائی کی اس خبر کو اپنے پہلو میں چھوٹی سی جگہ د ینے پر رضامند نہیں تھے۔

بعضے مقدمات میں تو میڈیا کا رول نہایت ہی تعصب بھر اور شرمناک ہوتا ہے۔ ججوں  اور عدالتوں کا ذہن بگاڑنے کے مقصد سے باقاعدہ نفسیاتی حملے کئے جاتے ہیں۔ اور کورٹ کی سماعت و ٹرائل سے پہلے ہی میڈیا اپنی ٹرائل مکمل کر کے ملزمین کو مجرم قرار دے کر سزائیں بھی سنا دیتی ہیں۔ چنانچہ ہمارے منصف ججوں نے اپیل کی سماعت کے دوران "عروسی” ( تلوارفیملی) کے قتل کے مقدمہ کو لے کر میڈیا کی اس شرمناک حرکت پر بڑے
تاُسف کا اظہار کیا تھا۔

حال ہی میں ہمارے وزیر داخلہ اور وزیر مالیات نے "آسارام” معاملہ میں کچھ ای طرح اظہار خیال کیاہے۔

بہر حال جہاد بے شک ایک مقدس عمل ہے۔

ہمیں اپنے نبیؐ کی بدرواحد اورفتح مکہ کی اداؤں پر بھی فخر ہے۔ اور صرف اسلام ہی نہیں دنیا کے تمام مذاہب اور قوموں نے مذہب کے نام پر جنگیں کی ہیں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے مذہب کے نام پر جوجنگیں لڑی ہیں وہ محتاج بیان ہیں ۔ ہندو دھرم میں بھی مہا بھارت اور  رماین کی جنگوں کو مقدس مذہبی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


یہاں اس مضمون پرتفصیلی کلام کی گنجائش نہیں ۔ مختصر یہ کہ لفظ جہاد کر عام ذہن جنگ وقتال کی طرف جاتا ہے۔نبئ کریم صلى الله عليه وسلم نے تو عین جہاد اور قتال کے موقع پربھی بچوں ،عورتوں، بوڑھوں، کمزوروں، بیاروں اور مذہبی لوگوں کےقتل سے اور مذہبی عبادت گاہوں کی بے حرمتی سے منع فرمایا ہے۔ جب آمنے سامنے کی جنگ اور جہاد میں ان حضرات کی رعایت کا حکم دیا گیا ہے تو بم دھماکے کر کے یا دہشت گردانہ واردات کے ذریعہ سے انہیں قتل کرنا یانقصان پہونچانا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ انسانوں کے حقوق کی تو بہت بڑی بات ہے۔ اسلام نے تو جانوروں حتی کہ چیونٹیوں کے بھی حقوق بیان کئے ہیں ۔ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ حضور پاک صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انبیاء سابقین میں سے ایک نبیؑ کا ایک علاقے سے گزر ہوا۔ آپ نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا۔ آپ کو چیونٹیوں کے جھنڈ میں سے ایک چیونٹ نے کاٹ لیا۔ انہوں نے تمام چیونٹیوں کو جلا دینے کا حکم دیا، جس پر الله تعالی نے وحی بھیجی"هلا نملة واحدة” کہ آپ نے صرف اس کاٹنے والی چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا؟ (دوسری بے قصور چیونٹیوں کو کیوں جلا دیا؟)


اسلام ہی کتے کو پانی پلانے پر جنت کی بشارت اور بلی کو مارنے پرجہنم کی وعیدیں سناتاہے۔


الحمدللہ میں نےTerrorism دہشت گردتھانہ ہوں۔ ہاں میں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ، مظلوموں اور کمزوروں کے حق کی بات کی ہے۔ آئین و دستور نے ہمیں جو حقوق دیئے ہیں اسکے لئے آواز بلند کی ہے۔ اور انشاء اللہ آئندہ بھی کروں گا ۔ لوگ اسے جو چاہے نام دے سکتے ہیں۔

(بقلم) مفتی عبدالقیوم احمد حسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button