دینی و دنیاوی

شیطان کے بھائی

ایک بزرگ تھے، جنگل میں جارہے تھے، رات کا وقت تھا۔ راستے میں ایک لمبا چوڑا آدی سویا ہوا تھا۔ بزرگ نے سوچا کہ اتنا لمبا چوڑا آدی تو ہونہیں سکتا، لہذا اس سے پوچھا جائے کہ کون ہے؟

شیطان کے بھائی

ایک بزرگ تھے، جنگل میں جارہے تھے، رات کا وقت تھا۔ راستے میں ایک لمبا چوڑا آدی سویا ہوا تھا۔ بزرگ نے سوچا کہ اتنا لمبا چوڑا آدی تو ہونہیں سکتا، لہذا اس سے پوچھا جائے کہ کون ہے؟ بزرگ نے اس کو پیر کی ٹھوکر مار کر جگایا اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ وہ اٹھا اور کہنے لگا کہ میں شیطان ہوں، بزرگ نے کہا: یہاں کیا کررہے ہو؟

شیطان نےکہا آرام کر رہا ہوں ۔

بزرگ نے کہا: تو تو اللہ سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ دنیا میں اللہ کے بندوں کو بہکاتا رہوں گا، پھر تجھے وقت کہاں سے ملا، جو سورہا ہے؟ شیطان نے کہا کہ ہندوستان میں کچھ ایسے مولوی پیدا ہو گئے ہیں جومخلوق خدا کو بدعت اور شرک کی دعوت د ے رہے ہیں ۔خودتو نماز پڑھتے نہیں دوسروں کو بھی نماز کی دعوت نہیں دیتے، بلکہ نماز پڑھنے والوں کی نماز چھڑادیئے ہیں۔ یہ لوگ مولوی کی شکل میں رہ کر تن من دھن سے میرا کام کر رہے ہیں، اس لیے مجھے کچھ آرا مل گیا ہے۔

فائدہ: علماء کی دوسمیں ہیں:

ایک علمائے حق اور دوسری علمائے سوء۔ علماء حق نے ہمیشہ قرآن وحدیث کی خدمت کی ،لوگوں کی صحیح رہنمائی فرمائی اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت پرخودبھی عامل رہے اور دوسروں کو بھی دعوت دی۔

لیکن دوسرا گروہ جو علمائے سوء کہلاتا ہے اس نے دنیوی مقاصد کے لئے قرآن و حدیث کی غلط تشریح کی، بدعات وخرافات کی تبلیغ کی اور لوگوں کی گمراہی کا ذریہ بنے۔
ہی وہ گروہ ہے جس کے گمراہ کن کارناموں سے شیطان خوش ہوتا ہے اور یہ سوچ کر اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا گروہ تیار ہو گیا ہے جو میرے کام کو بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔

ہندوستان میں بھی ایسے علماء کی کمی نہیں، جو بدعات وخرافات کو پھیلاتے ہیں، مزاروں پر جا کر افعال کفریہ وشرکیہ کرنے کو موجب نجات بتاتے ہیں ، نہ خود نماز روزہ ادا کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں، ان کا مقصد فقط لوگوں کو خوش کر کے دنیا حاصل کرتا رہتا ہے۔ اللہ بجائے اس گمراہی سے (آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button