اہم خبریں

لوجہاد کیا ہے؟ بھارت میں کیوں لوجہاد کا قانون لیا گیا۔

"لوجہاد کیا ہے”؟ "بھارت میں  لوجہاد کیا ہے”۔


اس پوسٹ کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں آپ کو نہیں جہاد کے بارے میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ آپ کو پتہ تو چلے کی یہ لوجہاد کیا چیز ہے۔ بھارت میں ہندو لڑکی جب کسی  مسلمان لڑکے سے شادی کرتی ہے جس لڑکے کو وہ پسند کرتی ہے یا جس  سے ان کو پیار ہوجاتا ہے۔ تو ہندو لڑکیاں اسلام قبول کرلیتی ہے۔ پھر مسلمان لڑکوں سے شادی کر لیتی ہے۔ یعنی شادی کرنے سے قبل اسلام قبول کر لیتی ہے۔ اپنی مرضی  سے اب اس بات پر ہندو شدت پسند بہت زیادہ پریشان ہیں۔ کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مسلمان ہماری لڑکیوں کو پیار کے جال میں پھنسا کر زبردستی مذہب تبدیل کروا تے ہیں۔ اور شادی کر لیتے ہیں جو کہ بالکل جھوٹ ہے  ہندوؤں  کا یہ بھی کہنا ہے۔ کہ مسلمان اپنی آبادی بڑھا رہے ہیں۔ مسلمان  بھارت میں اسلامی قانون لانا چاہتے ہیں۔ "اس کو ہندو لوجہاد  کہتے ہیں”۔ کہ یہ مسلمانوں نے ہمارے اور ہماری لڑکیوں کے خلاف "لوجہاد” شروع کر رکھا ہے۔ جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو وہ اسلامی قانون تو لانا چاہتا ہے۔ اور ایک دن بھارت میں بھی اسلامی قانون نافذ ہوگا۔


"ہندو لڑکیاں اسلام قبول کیوں کرلیتی ہے۔ لوجہاد”

اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بھارتی لڑکیاں  اسلام قبول کیوں کرتی ہے۔جتنی بھی پڑھی لکھی بھارتی لڑکیاں  ہیں جب ان کو کسی مسلمان لڑکے سے پیار ہوتا ہے ۔ تو ان کا چونکہ ہونے والا خاوند مسلمان ہوتا ہے۔ تو وہ اسلام کے بارے میں ریسرچ شروع کر دیتی ہے۔ اسلام کے بارے میں ریسرچ کرنے سے ان کو پتہ چلتا ہے۔ کہ اسلام دنیا میں واحد سچا مذہب ہے۔ تو وہ اسلام قبول کر لیتی ہے اور ہندو انتہا پسند اسے "لوجہاد” کا نام دیتے ہیں بھارت میں بین المذاہب شادیوں پر شروع ہونے والی بحث میں ہندو شدت پسندوں کو اس وقت شدید دھچکہ لگا جب ایک ریاست کا اعلی عدالت میں صرف شادی کے لئے تبدیلی مذہب کو ناقابل قبول قرار د یئے جانے کے پچھلے عدالتی حکم کو مسترد کردیا۔  الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلمان شخص کے خلاف دائر مقدمے میں یہ فیصلہ سنایا جس کی بیوی نے اس سے شادی کرنے سے پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ مقدمہ خاتون کے والدین نے کیا تھا۔ یہ ایسی نوعیت کا مقدمہ تھا جو مطلوبہ فیصلہ آنے کی صورت میں دائیں بازو کے ہندؤوں کے ساتھ سازشی نظریہ  لوجہاد کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا ۔بھارت میں ہندوؤں کا دعویٰ ہے۔ کہ مسلمان مرد لوجہاد کے زریہ ہندو خواتین کو بہکاوے یا زبردستی شادی کے لیے اسلام قبول کرواتے ہیں ۔ دو ججوں پرمشتمل بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم پرینکا اور سلامت انصاری کو ہندو اور مسلمان نہیں بلکہ ان دو بالغ افراد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔  جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے اپنی مرضی کے ساتھ اکٹھے پرسکون زندگی گزار رہے  ہیں ۔

ججوں نے مزید کہا۔ "love jihad”

کہ مذہب سے بالاتر ہوکر اپنی  پسند کے کسی فرد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق  انسانوں کے ذاتی آزادی کا بنیادی حق ہے۔ زاتی تعلوقات میں ایسی کوئی مداخلت دونوں افراد کے حق کے انتخابات کی آزادی میں ایک بڑی رکاوٹ ہوگی۔ ستمبر کے شروع میں اس عدالت کے سنگل  جج بینچ نے ایک بین المذاہب جوڑے کی طرف سے دائر درخواست کو خارج کر دیا تھا ۔جس میں انہوں نے دوسروں کے اپنی شادی شدہ زندگی میں مداخلت کرنے کے خلاف عدالتی مد چاہی تھی۔ سنگل بینچ نے اپنے سابقہ فیصلے میں کہا تھا کہ صرف شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنا اور فریقین کا مذہب اعتقاد رجہان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔  ناقابل قبول ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ شادی کے لئے مذہب کی تبدیلی کی عمومی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے قاصر رہا ۔کہا گیا کہ یہ فیصلہ صرف ایک مخصوص کیس کو منسوخ کرنے تک محدود ہے۔ یہاں کوئی جرم نہیں ہوا۔ کیونکہ دو بالغ افراد ہمارے سامنے ہیں جو اپنی مرضی اور اتحاد سے ایک سال ہوا ساتھ رہے ہیں۔ یہ حکم نامہ ایک اہم موڑ پر سامنے آیا ہے ۔ الہاآباد  ہائی کوڑٹ  کے پیچھے فیصلے کے بعد متعدد ریاستوں میں حکمران ہندو قوم جماعت بی جے پی کے وزیراعلی نے اس فیصلے کو بنیاد بناکر بین المذاہب شادی کے خلاف قوانین منظور کرنے کی بات کی تھی۔ بی جے پی کے زیرے  حکومت پانچ ریاستوں نے نام نہاد لوجہاد کے خلاف نئی قانون سازی کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس نظریے کے تحت وہ بھارت کے فرقہ ورانہ  معاشرے میں اپنی مزید جگہ بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ 2009 2010 2012 اور پھر دوبارہ 2014 میں جب بھی "لوجہاد”کے بارے میں سرکاری تحقیقات کا آغاز ہوا تو ایسے کسی مربوت سرگرمی  کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ حالہی   میں بھارت کی ریاست اتر پردیش میں لوجہاد میں اضافے کے الزامات پر  پولیس کی ایک خصوصیت تفتیش میں میں 14 کیسس کی چھان بین کی گئی ۔  تفتیش  کے بعد کسی بھی سازش کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ۔  کیونکہ تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ شادی کرنے والے مسلمان نوجوانوں میں سے کسی نے بیرون ملک سے کوئی رقم وصول کی ہو جس کے بارے میں لوجہاد نظریے کے دعویدار مسلسل ڈھنڈھورا پیٹتے رہتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button