اردو بلاگ

نظم کی تعریف۔ نظم کتنے قسم کے ہوتے ہیں۔

نظم کی تعریف ۔۔نظم کتنے قسم کے ہوتے ہیں۔۔

اسلام علیکم میں ہوں محمد وقاص ہم اپنے ویبسائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آج ہم بتانے والے ہیں ہم پچھلے پوسٹ میں اردو افسانہ اور حمد نعت منقبت اور قصیدہ کے بارے میں بتا رہے تھے اصناف بات کر رہے تھے تو آج کے اس مواد میں ہم بات کریں گے نظم کے اوپر جیسے کہ نظم کی تعریف نظم کتنے قسم کے ہوتے ہیں اور نظم کسے کہتے ہیں اور نظم کیا ہوتا ہے۔۔تو چلے ہم موضوع کے جانب بڑھتے اور آغاز کرتے ہیں کہ نظم کی تعریف کیا ہے؟

نظم کا تعارف کیا ہے؟

دوستو سب سے پہلے ہم نظم کےتعارف جانیں گے۔ نظم کے لغوی معنی پرونے کے ہیں موتیوں کو دھاگے میں پرونا اصطلاح میں اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں وزن اور بحر کا اہتمام کیا گیا ہو گویا وسیع تر مفہوم میں نظم سے مراد شاعری ہی ہے اور اس کی ضد نثر ہے، اگر دیکھا جائے تو اس میں شاعری کی تمام اصناف آ جاتی ہے جیسے مرثیہ قصیدہ غزل مثنوی شہر آشوب اور رباعی قطعہ وغیرہ، اس کے علاوہ نظم کا لفظ محدود معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کے مطابق نظم ایک صنف سخن ہے اس کو موضوعاتی نظم بھی کہا جاتا ہے نظم اور غزل کا بنیادی فرق بھی یہی ہے کہ نظم کسی ایک خاص موضوع کے اوپر لکھی جاتی ہے۔ اور اس کی ہیئت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے صنفف نظم یا موضوعاتی نظموں پر اگر نظر ڈالی جائے تو اردو ادب میں اس کی چار صورتیں نظر آتی ہیں۔۔ پابند نظم معری نظم آزاد نظم اور نثری نظم در اصل یہ موضوعاتی نظم کے چار مراحل ہیں جو اس نے اپنے ارتقائی سفر کے دوران اختیار کیے۔

فگر کی شکل میں موضوعاتی نظم کے نام

نثری نظم آزاد نظم معری نظم پابند نظم

چاروں نظم کی تعریف

دوستو سب سے پہلے ہم دیکھیں گے پابند نظم۔۔۔ ایسی نظم جس میں وزن بحر، قافیہ، اور ردیف وغیرہ کی پابندی کی جائے پابند نظم کہلاتی ہے۔۔ یعنی اس نظم کے تمام مصرعے ایک خاص وزن میں اور بحر میں ہوتے ہیں اور اس میں قافیہ اور ردیف بھی موجود ہوتا ہے ستاروی اور اٹھارویں صدی میں جو کہ وقت کی کمی نہ تھی زندگی گزارنا مشکل نہ تھا اس لئے لوگوں نے دل کھول کر پابند نظمیں بھی لکھیں اور ان میں زبان و بیان کے کمالات بھی دکھائے پابند نظم مخمس مسدس روی مثمن اور کئی دیگر ہیئتوں میں لکھی جاتی ہے بعد میں شکل کے حوالے سے مزید اضافہ بھی ہوئے اور آج بھی پابند نظم مختلف ہیئتوں تو میں لکھی جاتی ہے۔۔

نظم کی دوسری قسم نظم معری ہے ایسی نظم جس کے مصرعوں کے ارکان کی تعداد تو برابر ہو لیکن ان میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہ کی جائے نظم معری کہلاتی ہے اس کی مثال دیکھئے۔ حمید اللہ افسرکی ایک نظم۔۔ ڈبیہ۔۔ اچھی ماں وقت کی ڈبیہ جو کھل جائے کہیں۔۔ اور یہ گھنٹے اور منٹ سارے نکل کر بھاگ جائیں۔۔ تب مجھے مکتب نہ جانے پر برا کہنا نہ تم۔۔ تب تو مکتب کا نہ ہوگا وقت ہی گویا کبھی۔۔۔ اس نظم کو دیکھیے اس نظم کے تمام مصرعوں میں ارکان کی تعداد برابر ہے لیکن اس میں قافیہ اور ردیف کا خیال نہیں رکھا گیا۔۔

نظم کی اگلی قسم ہے آزاد نظم اور یہ نظم آج کے دور میں کافی شہرت کی بلندیوں پر ہمیں نظر آتی ہے آزاد نظم کی تعریف۔۔ ایسی نظم جس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہ کی جائے اور مصرعوں میں ارکان کی تعداد کو بھی نظر انداز کیا جائے اس نظم کو آزاد نظم کہتے ہیں آزاد نظم میں قافیہ اور ردیف بالکل نہیں ہوتا اور اس کے ارکان کی تعداد بھی مقرر نہیں ہوتے یعنی کوئی مصرع بڑا اور کوئی مصرع چھو ٹا ہو سکتا ہے ایسی نظم کو آزاد نظم کہتے ہیں۔۔

نظم کی آخری قسم ہے نثری نظم۔۔ نثری نظم کی تعریف ایسی نظم جس میں قافیہ ردیف وزن اور بحر نہ پایا جائے اس نظم کو نثر نظم کہتے ہیں۔۔ اس قسم کی نظم میں قافیہ اور ردیف کی پابندی ضروری نہیں ہوتی اور وزن اور بحر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی نثری نظم کی مثال دیکھئے۔۔۔ چاروب کش۔۔ دوسروں کی سیوا۔۔ پتھروں کی سیوا کے برابر ہے۔۔  بہن بیوی اور ماں کے رشتوں۔۔ کی خاطر جینے والی۔۔ تم اپنے لیے بھی تو جیو۔۔۔ دیکھو کنول کا پھول کیسے عالم۔۔ اور ماحول میں اپنی انا۔۔ اور اپنے وجود کا اعلان کرتا ہے۔۔۔ یہ ہیں نثری نظم کی مثال۔

یہ بھی پڑھیں:اردو افسانہ کیا ہے؟ افسانے کی تعریف کیا ہے۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button