اردو بلاگ

جنات نظر کیوں نہیں آتے؟

جنات نظر کیوں نہیں آتے؟jinnat nazar kyun nahi atay

اسلام علیکم دوستوں میں ہوں محمد وقاص آج کے اس مواد میں ایک ایسی عجیب و غریب مخلوق کے بارے میں ہے جو کہ نظر تو نہیں آتے البتہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے ہونے کا احساس ضرور دلاتے رہتے ہیں۔۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں جنات کی جن پر لاکھوں لاکھوں مواد لکھے جاچکے ہیں اور ویڈیوز بنائے جا چکے ہیں لیکن ان کی سائنٹیفک تشریح شاید ہی کسی نے کی ہو یعنی وہ ہمارے درمیان کس طرح موجود ہے اور ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے یا عموما اس دلیل کے ساتھ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ انسانوں کو آگ نظر آتی ہے تو جنات کیوں نظر نہیں آتے حالانکہ کہ وہ بھی کسی آگ سے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔

جن اور شیاطین نہ نظر آنے کی وجوہات۔۔

دوستو:۔۔سورہ رحمان آیت نمبر 51 میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے اور ہم نے جنات کو خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔۔ اس بنا پر اکثر یہ سوچا جاتا رہا کہ ہو سکتا ہے جس آگ سے انہیں بتایا گیا ہو وہ اتنی لطیف ہو کے نظر نہیں آ سکتی ہو کیونکہ شیطان نے اس اس تخلیق کی لطافت کی بنا پر ہی اپنے آپ کو انسان سے افضل قرار دیا تھا اس کے علاوہ ہمیں تو بہت سی دیگر مخلوقات بھی ہیں جیسا کہ انتہائی چھوٹے جراثیم کسی مائکروسکوپ کے بغیر نظر نہیں آتے لہذا جنات بھی لطیف ناری مخلوق ہوتے ہیں ہمیں نظر نہیں آتے، یہی معاملہ جنات کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے جنات پر حالیہ سائنسی ریسرچ نے یہ بتایا ہے کہ جنات کا انسانوں کو نظر نہ آنے کے پیچھے دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ انسان کا ویژن یعنی دیکھنے کی حد بہت محدود ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس کائنات میں جو الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہوتی ہے جن میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو کہ سات رنگوں پر مشتمل ہے جبکہ دیگر کی مخلوقات ایسی بھی ہے جو کہ 19 روشنیوں کو دیکھنے کے قابل ہیں جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ کا فضل مانگو کیونکہ وہ اسی وقت بولتاہے۔ اور جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے پناہ مانگو کیونکہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

کیا وجوہات ہیں کہ جنات اور شیطان کو دیکھ کیوں نہیں سکتے؟

لہذا دوستو: اب تک کی گفتگو سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حد کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو کہ جانور دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے ویژن اسپیکٹرم ہم سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ سانپ وہ جانور ہے جو کہ انفراریڈ میں بھی دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹرا وائلٹ میں دیکھ سکتی ہے  اس طرح الو کو رات میں ایسے نظر آتا ہے جیسے انسان کو دن میں باقی روشنیوں کا حال کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم گیما ویژن میں دیکھنے کے قابل ہو جائے تو انسان کو دنیا میں موجود ریڈیشن نظر آنا شروع ہو جائے گی، اگر ایکسرے کی مشہور روشنی میں دیکھنے کے قابل ہو تو انسانوں میں موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی، جب کہ اگر انسان انفراریڈ ویژن دیکھنا شروع کردیں تو انسان کو مختلف اقسام سے نکلنے والے حرارت نظر آئے گی اس کے علاوہ روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت الٹرا ویژن کی ہوگی جو کہ آپ کو الرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گی اسی طرح مائیکرو ویژن اور ریڈیو ویژن جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سپرپاور محسوس ہونے لگتی ہے، اور یاد رہے کہ انسانی آنکھوں دکھائی دینے والی روشنی ویزیبل لائٹ کہلاتی ہے اور یہ الٹراوائلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے جو اکثر جانوروں کی نسبت نہایت کم درجے پر ہے ہاں البتہ انسان کی سننے کی اور دیکھنے کی حس سے کافی بہتر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں واضح رہے کہ ایک سرگوشی کی فریکوئنسی تقریبا 150 ہرٹ ہوتی ہے اور یہی وہ فریکونسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے، اس کی واضح مثال اے ایس ایم فور تھرافی جس میں 100 ہرٹس کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے جیسا کہ اسٹریم تھیوری کے مطابق ٹوٹل گیارہ ڈائمنشن موجود ہیں اگر ہم پہلی ڈائمنشن میں ہے تو آپ اپنے آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے اسی طرح اگر ہم دوسری ڈائمنشن میں داخل ہو جائیں تو اب آگے پیچھے دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے جبکہ تیسری ڈائمنشن میں ہم آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا ہم جسے اپنا عالم کہتے ہیں اور اگر کسی طرح ہم چوتھی ڈائمینشن میں داخل ہو جائے تو ہم وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے اسی طرح پانچویں ڈائمنشن میں داخل ہونے پر ہم اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم اروح جبکہ چھٹی ڈائمنشن میں ہم دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے قابل ہو جائیں گے جن میں عالم اسباب کے ساتھ ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دوستوں ساتویں ڈائمنشن ہمیں اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے کا تھا جبکہ آٹھویں ڈائمنشن ہمیں تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لے جانے کے قابل ہو گی جب کہ نویں ڈائمنشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو دسویں ڈائمینشن میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے اس ڈائمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہوگا، لہذا ماہرین کے مطابق جنت بھی شاید اس ڈائمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے اور دوستو یہ بھی ممکن ہے کہ جنات ہم سے اوپر کی کسی ڈائمینشن کے ہیں جس کی وجہ سے ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے جب کہ جنات کے بارے میں قرآن پاک میں بھی یہ ارشاد ہے اور وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:WHO لوگو میں سانپ کیوں ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button