دینی و دنیاوی

جنت کہاں ہے؟

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَلَقدْ رآهُ نزلةً اُخْریٰ،  عند  سدرة المنتهى  عندھاجنتہ المأوی (النجم: ۱۳۔۱۵)  اور انہوں نے اس (فرشته) کو ایک بار   بھی دیکھا ہےسدرة المنتهى کے قریب  کہ اس کے قریب جنت المأوی ہے۔

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ”سدرة المنتهى‘‘ آسمان کے اوپر ہے، اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو چیز بھی نازل ہوتی ہے وہ اس تک پہونچتی ہے۔ 

دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے و في السماء رزقكم وماتوعدون آسان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی( الذاريات ۲۳۰) جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

ابن ابی نجیح نے حضرت مجاہد کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ’’ وما توعدون‘‘ سے مراد جنت ہے، اور ابن المنذر نے اپنی تفسیر میں مجاھد کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد جنت اور دوزخ دونوں ہے ، لیکن اس پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ دوزخ تو اسفل السافلین میں ہے نہ کہ آسمان میں ، اس کا جواب اس روایت سے دیا جاسکتا ہے جو ابوصالح نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالہسے بیان کی ہے کہ خیر اور شر دونوں آسمان سے اترتے ہیں ، اس طرح اس کا مطلب ہوا کہ جنت اور دوزخ کے اسباب اس تقدیر کے مطابق وجود میں آتے ہیں جو آسمان میں اللہ تعالی کے یہاں ثابت ہے۔

ابونعیؒم نے اپنی کتاب ”صفة الجنة‘‘میں بالسند عبداللہ بن سلامؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے تھے: ”اللہ تعالی کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ومکرم ابوالقاسمﷺ ہیں ، اور جنت آسمان میں ہے‘ ایک اور روایت انہوں نے عطية عن ابن عباس کی سند سے بیان کی ہے کہ جنت ساتویں آسمان پر ہے اور اللہ تعالی قیامت کے دن جہاں چاہے گا اس کو منتقل کر دیگا۔ اور جہنم بھی ساتویں آسمان پر ہے۔ (۱)

ابوبکر بن ابی شیبہؒ نے اپنی سند سے عبداللہ بن عمرو کا اثرنقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ: جنت سورج کی شعاعوں سے معلق ہے، وہ سال میں ایک مرتب منتشر ہوتی ہے اور مومنین کی روحیں زورزور (۲) کی طرح کے پرندوں میں ہوتی ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور ان کو جنت کے پھل کا رزق دیا جا تا ہے

اس اثر میں اور ماقبل کی روایات میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے حالانکہ اس میں کوئی تضادنہیں ہے، کیوں کہ جنت سورج کی شعاعوں سے تعلق ہے اس سے مراد وہ انواع و اقسام کے پھل فروٹ ہیں جو الله سبحانہ وتعالی ہر سال ایک مرتبہ سورج کے ذرایہ پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالی نے دنیا کے نباتات کو اس لئے پیدا کیا تا کہ حقیقی جنت کی یاد تازہ ہوتی رہے، جیسا کہ دنیا کی آگ کو اس لئے بنایا تاکہ دوزخ کی آگ یاد آئے ، ورنہ جوحقیقی جنت ہے اور جس کا عرض زمین و آسمان کے برابر ہے وہ سورج کی شعاعوں سے تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ سورج سے اوپر ہے اور اس سے کئی گنا بڑی ہے۔

صحیحین  میں آپِﷺ سے منقول ہے کہ الجنة مئة درجة ما بينكل درجتين كما بين السماء والأرض ‘(جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت ہے ) اس سے معلوم ہوا کہ جنت نہایت اونچی اور بلند ہے۔ والله اعلم۔

اس حدیث کے الفاظ دو طرح سے آئے ہیں ایک تو اسی طرح جو ابھی مذکور ہوئے ، دوسری روایت اس طرح ہے

إن في الجنة مأة درجة مابين كل درجتين كما بين  السماء والأرض أعدها الله للمجاهدين في سبيله جنت میں سو درجے ہیں ۔ ہر دو  درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا  زمین و آسمان کے درمیان ۔ اللہ تعالی. نے اس کو اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کیا ہے۔

(بخاری کتاب الجهاد ، مسلم کتاب الامارة)

ہمارے شیخ (علامہ ابن تیمیہ) کے نزدیک ہی الفاظ راجح ہیں۔

مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنت کے صرف اتنے ہی درجے ہیں بلکہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ، اس حدیث میں بیان کردہ عدد اس سے زیادہ کے منافی نہیں ہے، اس کی نظیر اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپﷺنے ارشادفرمایا:

ان لله تسعا و تسعين اسما  من أحصاها دخل الجنة  الله تعالی کے ننانوے نام ہیں جو اچھی طرح  ان کا احاطہ کر لیگا (ان کو یاد کر کے ان کے مطابق عمل کرے گا) جنت میں داخل ہوگا۔

(بخاری کتاب الدعوات )

اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اللہ کے بہت سے ناموں میں سے ننانوے نام ہیں، یہ مطلب نہیں کہ اس کے صرف ننانوے ہی نام ہیں۔ ہم نے جو بات کہی کہ جنت میں سو درجے سے زیادہ بھی درجے ہوں گے اس کے صحیح ہونے کی قوی دلیل علماء کا اس بات پر اتفاق بھی ہے کہ آپ کا مقام جنت میں ایسی جگہ ہوگا جس سے اوپرکوئی درجہ نہیں ہوگا جہاں تک ان سو در جوں کا تعلق ہے تو ان کو تو آپ کی امت کے افراد بھی اپنے جہاد کرنے کی وجہ سے حاصل کر لیں گے۔

جنت گنبد نما ہوگی اس کا سب سے اوپر کا حصہ سب سے زیادہ چوڑا ہوگا اور اس کے بیچ میں جنت الفردوس ہوگی ، اس کی چھت رحمن کا عرش ہوگی ، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشادفرمایا: إذا سألتم الله فاسلوهالفردوس فإنه وسط الجنة و أعلى الجنة و فوقه عرش الرحمن و منه تفجر أنهار الجنة  جب تم اللہ سے مانگو کیوں کہ وہ جنت کے بیچ کا اور اس  ،  کا سب سے اونچا حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہر میں پھوئی ہیں۔

(بخاری کتاب الجهاد )

جنت چونکہ بہت وسیع اور بلند ہوگی اس لئے اس پر درجہ بدرجہ چڑھاجائے گا جیسا کہ ابو داود اور ابن ماجہ کی روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا: إقرأ و ارق فإن منزلتك عند آخر آية تقرأها پڑھتا جا اور چڑھتا جا تیری منزل اس  آخری آیت پر ہوگی جس کو تو پڑے گا۔

(ابو داود کتاب الصلاة)|

اس حدیث کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ، ایک تو یہ کہ اس کی منزل وہاں ہوگی جہاں تک اس کو یاد ہے، دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی منزل وہاں ہوگی جہاں تک وہ اپنے یاد کئے ہوئے کی تلاوت کرے۔  واللہ اعلم

جنت کے دروازے کیسے ہوں گے؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button