دینی و دنیاوی

جنت کے دروازے کیسے ہوں گے؟

جنت کے دروازے کیسے ہوں گے؟

ولید بن مسلم نے خلید سے اور انہوں نے حسن بصری سے’مفتحة لهم الأبواب ‘‘ (1) کی تفسیر میں ہی قول نقل کیا ہے کہ جنت کے ایسے دروازے ہوں گے جونظر آئیں گے، اور قیادہ سے قتل کیا ہے کہ وہ دروازے ایسے ہوں گےکے اندر سے باہر کا اور باہر سے اندر کا نظر آئے گا ۔ اور وہ خوب بولتے اور مجھے ہوں گے، ان سے کہا جائے گا کھل جا تو وہ کھل جائیں گے اور اگر کہا جائے گا بند ہوجاتو بند ہوجائیں گے۔

ابوالشیخؒ نے بالسند حضرت فزاری سے نقل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ : جنت میں ہر مومن کو چار دروازے ملیں گے ، ایک دروازے سے فرشتے اس کی زیارتکو آئیں گے، دوسرے دروازے سے حور عین اس کے پاس داخل ہوں گی ، تیسرا دروازہ اس کے اور جہنم کے درمیان ہوگا جو بند رہے گا وہ جب چاہے گا اس کوکھول کر اہل جہنم کو دیکھے گا تا کہ نعمت الہی کی قدر زیادہ سے زیادہ ہو، چوتھا دروازہ اس کے اور دار السلام کے درمیان ہوگا اس سے وہ اپنے رب کے پاس جب چاہے گا داخل ہوگا۔

          ترمذی شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا:

أنا أول من يأخذ بحلقة باب: میں سب سے پہلے جنت کے دروازے (1) ص :۵۰

الجنتہ ولا فخر: کی کنڈی پکڑوں گا، اور میں فخر یہ نہیں کہہ رہا ہوں

 (ترمذی کتاب المناقب) 

ترمذی ہی میں شفاعت کرنے کے سلسلے میں بھی حدیث آئی ہے اس میں یہی ہے فأخذ بحلقة باب الجنة فاقعقعها میں جنت کے دروازے کی کنڈی

پکڑوں گا اور اس کو کھٹکھٹاؤں گا۔ (ترمذى كتاب التفسير سورة بنی اسرائیل)

اس سے معلوم ہوا کہ وہی حسی (دکھائی دینے والی) کنڈی ہوگی جو حرکت بھی کرتی ہوگی۔

خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغداد میں حضرت علی رضی ال کا یقول نقل کیا ہے: ۔

من قال لا إله الا الله الملكالحق المبين في كل يوم مأة مرة كان له أمان من الفقر استجلب به الغني و استقرع به باب الجنة:  جو ِشخص    روزانہ سو ۱۰۰ مرتبه لا اله الا الله  الملك الحق المبين ‘‘ پڑھے گا اس،  کوفقر اور عذاب قبر کی وحشت سے   امان مل جائے گا۔ اور اس کی وجہ سے   اس کو مالداری نصیب ہوگی ، اور وہ  اس کے ذریہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ 

اور چونکہ جنت میں کئی درجات ہوں گے بعض جتنیں سب سے اعلی ہوں گی بعض اس سے کم ، اور بعض اس سے بھی کم اس لئے دروازوں کا سائز بھی جنتوں کے اعتبار سے مختلف ہوگا اس طرح ان مختلف روایتوں کی توجیہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے جن میں دروازوں کی مسافت ایک دوسرے سے مختلف بتائی گئی ہے۔

امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاة والسلام کے لئے جنت میں داخلہ کا ایک مخصوص دروازہ ہوگا جن سے صرف وہی داخل ہوں گے ، جیسا کہ مسند احمد میں عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا:

باب أمتي الذي يدخلون منه الجنة عرضه مسيرة الراكب ثلاثا ، ثم إنهم ليتضغطون عليه حتى تكاد مناكبهم تزول: جس دروازے سے میری امت جنت  میں داخل ہوگی اس کی چوڑائی ایک مسافر  کے تین دن سفر کرنے کے برابر ہوگی پھر  وہ اس پر جمع ہوں گے (اور اتنی زیادہ بھیٹرہو گی کہ) ایسا معلوم ہوگا کہ ان کے شانے اترجائیں گے۔ (ترمذی کتاب صفة الجنة ) 

 خلف بن ہشام اليز ار نے بالسند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں: ۔

’’جنت کے دروازے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں گے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی:’’ حتى إذا جاء و ها و فتحت أبوابها ‘‘(1)(یہاں تک کہ جب وہ جنت کے پاس آئیں گے اور اس کے دروازے کھولے جائیں گے)۔ پھر فرمایا: ان کو جنت کے پاس ایک درخت ملے گا جس کی جڑ میں دو چشمے بہے رہے ہوں گے، وہ ایک چشمے سے پئیں گے تو ان کے اندر کی ساری گندگیاں دور ہو جائیں گی اور دوسرے چشمے سے غسل کریں گے تو ان کے چہروں پر رونق آجائے گی اور ان کے جسم پر خوش عیشی کی علامتیں ظاہر ہو جائیں گی پھر بھی انکے سر پراگندہ نہیں ہوں گے ، اور ان کی جلد بھی متغیر نہیں ہوگی اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی طبتم فادخلوها خالدين (1)(تم پا کیزہ ہوتو تم اس میں ( جنت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے داخل ہو جا و ) جنتی اپنے گھر میں داخل ہو گا اور وہ اپنے گھر کو پہچانتا ہوگا حور وغلمان اس سے ملاقات کر کے ایسے خوش ہوں گے جیسے گھر والے اپنے کسی عزیز سے مل کر خوش ہوتے ہیں جب وہ پردیس سے واپس آتا ہے۔ پھر وہ اس کی بیویوں کے پاس جائیں گے اور ان کو اس کے آنے کی اطلاع دیں گے، وہ کہیں گی کیا واقعی تم نے اس کو دیکھا ہے؟ پھر وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہو جائیں گی ، وہ اپنے گھر میں داخل ہوکر تخت پر ٹیک لگاکے بیٹھ جائے گا جب وہ اپنے گھر کی بنیاد رکھے گا تو معلوم ہوگا کہ اس کی بنیاد موتیوں سے بنائی گئی ہے اس کو وہاں ہرے لال پیلے اور مختلف رنگ کے موتی نظر آئیں گے، پھر وہ اپنی نگاه جنت کی چھت کی طرف اٹھائے گا، اس کی چمک اتنی زیادہ ہوگی کہ اگر وہ جنت اس کے لئے پیدا نہ کی گئی ہوتی تو اس کی نگاہ چکا چوند ہو جاتی ، پھر وہ کہے گا : ” الحمد لله الذي هدانا لهذا و ماکنا النہتدي لولا أن هدانا الله (۲) (تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جسنے ہمیں اس دین اسلام کی ہدایت دی ، اگر وہ ہمیں اس کی ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پا سکتے

جنت کہاں ہے؟

 

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button