اردو بلاگ

جانوروں کے درمیان ہونے والی جنگیں

جانوروں کے درمیان ہونے والی جنگیں

 معزز دوستو السلام علیکم :میں ہوں وقاص دوستو کیا آپ جانتے ہیں جنگل میں رہنے کے لیے جنگل کا قانونی نبھانا پڑتا ہے یعنی جو طاقتور ہوگا وہ اپنے سے کمزورجانوروں کو مارکر زندہ  رہےگا جنگل میں یہ بات بالکل عام سی تصور کی جاتی ہے کیونکہ ایک جانور دوسرے کو مار کر اپنا پیٹ بھڑتا ہے یہ جنگل کا قانون ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جنگل میں ایسے کون کون سے جانور ہے جو آپس میں جانی دشمن سمجھے جاتے ہیں یہاں اگر آپ سبھی کا جواب سانپ اور نیولا ہےتو آپ کو اپنی جنرل نالج کو مزید بہتر کرنا چاہئے کیونکہ یہ بہت پرانی بات ہوچکی ہے اس کے بارے میں بچہ بچہ جانتا ہے ان کے علاوہ ایسے کون سے جانور ہیں جو کہ ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ کو اسی کے بارے میں بتائیں گے ۔

موضوع کا آغاز

شیر اور لگڑ بگها

دوستو: جنگل کے سب سے پرانے اور خطرناک دشمنوں کی فہرست میں سب سے پہلے شیئر اور لگڑ بگهے کا نام ہے جو کہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہےہیں یہ دونوں نہ صرف ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے بدلہ بھی لیتے ہیں۔ یہ بات کافی حیران کر دینے والی ہے مگر یہ بالکل سچ ہے اگر آپ نے ہالی وڈ کی مشہور فلم ڈلائن کنگ دیکھی ہے تو آپ ان دونوں شکاریوں کی دشمنی سے اچھی طرح واقف ہوں گے مگر فلم کے علاوہ یہ دونوں جانور حقیقت میں بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں یہ اپنے کچھ جاتی معاملات میں ایک دوسرے کے بچوں کو مار کر اپنا بدلہ لیتے ہیں ویسے شاید آپ کو لگ رہا ہوگا کہ ان دونوں کی لڑائی میں جنگل کا بادشاہ شیر ہی ہمیشہ جیت ہوگا ہم آپ کو بتا دیں کہ لگڑ بگھوں کا ایک معمولی گروہ شیر پر بھاری پڑ سکتا ہے یا اس کے علاوہ اگر چند لگڑ بگهے کسی بوڑھے شیر پر حملہ آور ہو تو اس کا بچنا بھی ناممکن ہے لگڑ بگھوں کہ تیز نوکیلے اور طاقتور  دانت کسی بھی جانور کی ہڈیوں کو منٹوں میں چکنا چور کر سکتے ہیں یہ دونوں جانور ایک دوسرے سے اس قدر نفرت کرتے ہیں کہ کبھی کبار ان کی لڑائی اور جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے ہیں درحقیقت  اپریل 91 میں  لگڑ بگھوں کے ایک گروہ اور شیروں کے درمیان بہت بڑا خطرناک مقابلہ ہوا جس میں تقریبا چھ شیر اور ۳۵ لگڑ بگھے مارے گئے یہ لڑائی دو ہفتوں تک چلی اس خونریز جنگ کے دوران  دونوں دنیاوی حیوانات کے رات وقت ایک دوسرے سے لڑتے اور دن کےوقت آرام کرتے۔

کینگرو اور ڈنگو

دوستو: ڈنگو در اصل آوسٹیلیا میں پائی جانے والی کتے کی ایک نسل ہے۔ جن ہیںکینگرو کا سب سے بڑا دشمن مانا جاتا ہے کیونکہ دنگو  موقع دیکھتے ہی کینگرو  پر حملہ آور ہو جاتے ہیں دنگو شکاری جانور ہے اس لئے اپنی سونگھ کی صلاحیت کے استعمال کر کے آس پاس موجودکینگرو کا پتہ لگا لیتا ہے ڈنگو کے کھانے میں زیادہ ترکینگرو کا گوشت شامل ہوتا ہے اس لیےکینگرو کے شکاری جانور سے دور رہنے میں ہی بھلائی سمجھتے ہیں جیسے ہی کوئی ڈنگوکینگرو کی رو سے کسی گروہ کے قریب آتا ہے۔ ان میں افرا تفریح کا ماحول برپا ہوجاتا ہے ڈنگو زیادہ تر کینگرو کے بچوں کا شکار کرتے ہیں لیکن کینگرو اپنے بچوں کو ہمیشہ اپنے گھروں میں حفاظت سے رکھتے ہیں  جس سے ڈنگو زیادہ تر کامیاب نہیں ہوپاتے جب کوئی کینگرو پانی کی تلاش میں ندی یا پھر  کہیں کینچر میں پھنس جائے تو یہ موقع دنگو نامی کتے کے لیے بہترین اور سنہری موقع ہوتا ہے اور اس لمحےبےبس  کینگرو یہ ڈنگو نامی کتے چیر پھاڑ کر دیتے ہیں ایسے حالات میں دوسرےکینگرو بھی اس کی مدد نہیں کر پاتے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اگر وہ مدد کرنے کے لئے آئے تو ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

مگرمچھ اور دریائی گهوڑا 

 پیارے دوستو:یہ توآپ کہاوت تو سنی ہوگی کہ پانی میں رہنا اور مگرمچھ سے بیر کیونکہ مگرمچھ کو خطرناک آبی جاندار مانا جاتا ہے مگرمچھ چند منٹوں میں جو میں کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے لیکن کیا آپ اس بارے میں سوچا ہے کہ اس جانور کا دشمن ملک کون ہو سکتا ہے جو اس کو برابر کی ٹکر دے سکے اگر نہیں تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ مگرمچھ کا سب سے بڑا دشمن ہپو یعنی دریائی گھوڑا ہوتا ہے ویسے تو یہ دونوں خطرناک جانور پانی نہیں رہتے ہیں لیکن اگر یہ دونوں کا کبھی آمنا سامنا ہو جائے تو مگرمچھ ڈر کے مارے دور بھاگ جاتا ہے معصوم اور دلچسپی دکھنے والے یہ ہپوز درحقیقت اور زیادہ خطرناک اور طاقتور ہوتے ہیں انکی طاقت اندازہ اس بات سے لگا لے یہ محض اپنے ایک حملے سے مگرمچھ کی حالت بری طرح خراب کر دیتے ہیں ویسے تو ہر ہپوز گانس پھوس کھا کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں لیکن مشکل حالات میں گوشت کھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں سوکھے کے وقت جب گھانس پھوس میسر نہ ہومگرمچھ سے ان کا شکار چھین لیتے ہیں عام طور پر پانی کے قریب آنے والے جانوروں اور انسانوں پر حملہ کرتے ہیں جبکہ ہپوزصرف مزے کے لیے چھوٹی کشتیاں دبوتے ہیں اس کے علاوہ ہپوز اپنے علاقے کی حفاظت میں بہت اچھی طرح کرتے ہیں ان کے علاقے میں اگر کوئی انسان آ جائے تو یہ اسے جان سے مار دیتے ہیں اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں یہ مگرمچھ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں پانی میں ایک ساتھ رہنے کے باوجود بھی مگرمچھ ہوزکہ یہ ہپوزکے  بچوں کو بھی دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

کتے اور بلی

پیارے دوستو: دو دشمنوں کے آپس میں لڑنے اور پیچھا کر کے ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے والے جانداروں کی بہترین مثال کتا اور بلی ہیں آپ نے اکثر اوقات کتے کو بلی کے پیچھے بھاگتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا یہ دونوں جانور گھر میں پالتو جانور کے طور پر بہت زیادہ مقبولیت کرتے ہیں لیکن ان کی آپس میں کبھی بھی نہیں بنتی مگر کیا آپ نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے یہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں اگر نہیں تو ہم آپ کو بتا دیں کہ کتوں کی نیچر حفاظت کرنے والی ہوتی یہ کسی انجان انسان کے جانور کو اپنے گھر کے مالک کے قریب دیکھ کر رونا شروع کر دیتے ہیں اتنا ہی نہیں اگر اس وقت ان کے گلے میں پتھر نہ ہو تو کتے اس جانور کا پیچھا کرنے لگتے ہیں وہیں دوسری طرف سے بلیاں ذرا ذڑپوک قسم کی ہوتی ہیں اسلئے یہ اپنے  سے بڑے کسی بھی جانور کو دیکھ کر بھاگنا شروع کر دیتی ہے ہیں اور اسے بھاگتا دیکھ کر سکتا اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیتا ہے مگر آج تک ایسے بہت کم واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جب کتے نے بلی پر حملہ کرکے اس کی جان لی ہو کتا اور بلی طاقت کے کھانے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے نیچر کی وجہ سے آپس میں لڑتے ہیں کتے کو دیکھ کر بلی گولی کی رفتار سے کسی درخت کی اونچی عمارت پر چڑھ جاتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ہی دلچسپ بات ہم آپ کو بتادیں اگر بچپن ہی سے دونوں جانوروں یعنی کتے اور بلی کو ایک ساتھ پالا جائے تو یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے  نہیں لڑینگے۔

شارک اور ڈالفن

پیارے دوستو: سمندر میں رہنے والی شارک اور  ڈولفن مچھلیوں کو آپس کی ازلی دشمن قرار دیا جاتا ہے عام طور پر ماہرین کہتے ہیں کہ شارک خطرناک سمندری جانور ہیں لیکن شارک اور ڈالفن کی لڑائی میں یہ معاملہ ذرا الٹا ہے آپ انتہائی حیران ہوں گے کہ سمندر کی سب سے خطرناک مچھلی شارک ڈالفن کو دیکھتے ہی ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ ڈالفن  کی جلد بہت زیادہ نرم و ملائم ہوتی ہے جو اسے تیزی کے ساتھ کسی بھی طرف موڑنے میں مدت کرتی ہے  اور اس کی پونچھ بھی بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہے جس سے وہ بہت تیزی کے ساتھ شارک پر حملہ کر دیتی ہے  اس بر شارک مچھلی کا اوپر والا حصہ بہت زیادہ سخت جبکہ نیچے والا حصہ کافی نرم ہوتا ہے  ڈالفن پر اپنی طاقتور پونچھ سےشارک پر حملہ کرکے اسے بری طرح زخمی کردیتے ہیں اس کے علاوہ ڈالفن اپنے نوکیلے تیز مونھ سے بھی شارک پر حملہ کرتے ہیں جو اس کے زخموں میں اضافہ کرنے کا کام کرتا ہے مزید یہکہ ڈالفن  ہمیشہ گروپ بنا کر رہ تی ہے جبکہ شارک ہمیشہ اکیلا ہی دیکھی گئی ہے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ شارک کے مقابلے میں ڈالفن کا پلڑا بھاڑی ہوتاہے۔

میرکیٹ اور ڈرونگو

 پیارے دوستو کیا آپ سے کبھی کسی نے دوسرے پرندوں کی آواز نکالنے والے ڈرنگو کو پرندے کے بارے میں سنا ہے اگر ہاں تو آپ اس بندے کے بارے میں یہ بھی جانتے ہوں گے یہ پرندہ نقل کرنے کے ساتھ ساتھ چوری کرنے میں بھی ماہر ہوتا ہے اس کی عادت کی وجہ سے میرکیٹ نامی جانور اس کا سب سے بڑا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ میرکیٹ کیڑے مکوڑے چھوٹے جانداروں کو کھا کر اپنا پیٹ بھڑتا ہے  اور اس کا جانی دشمن ڈرونگو بھی   اسی خوراک کی تلاش میں رہتا ہے میرکیٹ جب بھی سانپ اور بچھو جیسے خطرناک جانوروں کا شکار کرکے انہیں  کھانے کی تیاری کرتا ہے تو یہ ڈرونگو پرندہ باز اور چیل اور دیگر شکاری پرندوں کی آوازیں نکال کر اسے ڈرا کر اپنا شکار سے دور بھگا دیتا ہے اور خود جاکر میرکیٹ کے شکار کادعوت اڑاتا ہے  ڈرونگو ہر پرندے کی آواز کتنی اچھی طرح نقل کرتا ہے کہ کوئی بھی اس کی آواز کے جھانسے میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ آپ نے اسی ہنر کا فائدہ اٹھا کر دوسرے جانوروں کا شکار ان سے چھین لیتا ہے جو کہ  واقع بہت دلچسپ بات ہے اور قدرت کا یہ شاہکار بھی واقعے  بھی انمول ہے 

یہ بھی پڑھیں : نئی نسل کی چونٹی۔دنیا میں تباہی برپا کرسکتی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button