جدید ٹیکنالوجی

نئی نسل کی چونٹی۔دنیا میں تباہی برپا کرسکتی ہے

 

نئی نسل کی چونٹی 

السلام علیکم دوستو میں ہوں محمد وقاص آپ سب  دوستوں کو خوش آمدید  دوستو  "چونٹی” عام معاشرتی کیڑاہے جو دنیا کے تقریباً ہر حصے میں بہت بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ درحقیقت دنیا میں انسانوں میں  سے بھی ہزاروں گنا  زیادہ بڑی تعداد میں چونٹی آباد ہیں اور اب تک ان کی بارہ ہزار سے زائد اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔  انہی بے شمار اقسام میں ایک عجیب و غریب اور انوکھی قسم کریزی اینٹھ جی ہاں کریزی اینٹھ   یعنی "پاگل چونٹی”  جب آپ اس چونٹی کے طرز بودوباش اور نظام زندگی کے بارے میں جانیں گے تو خود ہی سمجھ جائیں گے کہ اسے یہ نام کیوں دیا گیا ہے دوستو چیونٹی کی یہ قسم شمالی ارجینٹ ٹائن اور شمالی برازیل کی رہائشی ہے۔

اگرچہ یہ 1938 سے امریکہ میں موجود ہیں۔(چونٹی)

تاہم یہ عوامی طور پر سب سے پہلے 2002 میں سامنے  أئی یہ چیونٹی 2002 میں ہوسٹن کے ایک سنتی علاقے کے آس پاس دریافت ہوئی ٹومرس بیری نامی شخص جو کہ ماہ ہشرات ہیں  یہ سب سے پہلے ان چیزوں کا مشاہدہ کیا اور  دیکھا کہ یہ بڑی تیز اور بے مقصد حرکت کرنے والی چونٹی   ہے اور یہ اپنی آبادی بڑی تیزی سے بڑھا تی ہے۔ چیونٹیوں کی اس نئی قسم کا نا م ٹو مرس بری کے اعزاز میں ان کے نام پر روسبری  کریزی اینٹھ رکھا  گیا۔ کیونکہ انہوں نے اسے سب سے پہلے دریافت کیا تھا  لیکن اب ان چیونٹیوں کو عام طور پر ٹانی کریزی اینٹھ کہتے ہیں۔  اور ان کا سائنسی نام لینیڈری آوف لو  ہے یہ چیونٹی اب تک ٹیکساس کی 23 ریاستوں اور امریکہ کے تمام خلیجی ریاستوں میں پھیل یہ چیونٹی تقریبا 2.3 ملی میٹر ہے یہ چیونٹی تقریبا 2.3 ملی میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے۔اس کی ٹانگیں اور اس کے جسم کے تناسب سے کافی لمبے ہوتے ہیں اور اس کا جسم سرخی مائل اور بھوڑے اور سیاہ بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ کریزی اینٹھ کی سب سے نمایاں بال اس کی  عجیب  بے ترتیب بے مقصد اور دیوانہ وار حرکت  ہے جو کہ علم حشرات میں تیس سالہ تجربہ رکھتے بتاتے ہیں۔ کہ جب آپ اسی تیزی سے حرکت کرتی اور کسی مخصوص راستے پر نہ چلتی ہوئی چونٹی  کو دیکھیں تو یہ یقین کریزی اینٹھ  ہوگی یہ اپنی ان بے قاعدہ اور بے مقصد حرکات کے سبب کریزی اینٹھ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ دوسری  چونٹیوں کی طرح منظم اور ترتیب وار کی  قتار کی شکل میں مارچ نہیں کرتی بلکہ ان کی چال بے ترتیب اور  ٹھیڑی ہوتی ہے کریزی اینٹھ  کالونیوں کی شکل میں رہتی جو دوسری چونٹیوں کی کالونیوں کے مقابلے میں سو گنا زیادہ گنجان ہوتی ہیں اور ان کی آبادی بڑھنے کا تناسب بھی دوسری چیونٹیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے  ان کی بستیاں ایک سال کے عرصے میں 650 فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔جو کہ دو فٹ بال گراؤنڈ کی لمبائی کے برابر ہے یہ  چیونٹیوں نیم مرطوب ماحول میں بہت پھلتی پھولتی  ہے۔ اور ہر اس جگہ پائی جا سکتی ہے جہاں نمی موجود ہو یہ  چیونٹی گھر اور باہر کھلی جگہوں پر مٹی میں پھل دار پودوں میں گزر گا  ہوں اور چٹانوں میں رہ سکتی ہے۔علاوہ ازیں یہ آپ کو کسی بھی قسم کے ملبے میں زمین کی سجاوٹ کے لیے لگائی جانے والی لکڑی کی چیزوں میں پتوں کے ڈھیر میں حدحتاکہ الیکٹرانک سامان تک میں بڑی تعداد میں مل جائے گی۔ ان کی ایک اور عجیب و غریب اور کریزی بارات ان کا برقی آلات کی طرف بہت زیادہ راغب ہونا جو کہ بھاری نقصان کا باعث بنتا ہے۔ یہ اتنی زیادہ تعداد میں الیکٹرانک سامان پر ٹوٹ پڑتی ہیں کہ شارٹ سرکٹ کے باعث بن جاتی ان چیونٹیوں نے کمپیوٹرز کو خراب کر دیا جس سے آپ کے پٹیشنر سپرپاور نالیوں کو تباہ کر دیا اور فائر الارم سسٹم خراب کرکے بند کرڈالا  حتاکہ ان چیزوں کے ہاتھوں قارے موبائل فونز اور ٹی وی تک خراب واقعات دیکھنے کو ملے۔ 

ایک الیکٹریشن مائک فوشی ان چیونٹیوں کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہے۔

ایک دن وہ خراب ایسی ٹھیک کر رہا تھا جب اس نے ایسی کھولا اور اس کی صفائی کے لیے ویکیو مشین چلائی تو اس نے دیکھا کہ وہاں تو ان چیونٹیوں کا بے تحاشہ ڈھیر لگا ہوا ہے اس کے مطابق اس نے وہاں سے پانچ غیلن کے قریب چیونٹیاں ہٹائی   جو سب کی سب ایک چھوٹی سی جگہ میں آپس میں چپکی ہوئی تھی اور ظاہر ہے کہ ایسی کی خرابی کی ذمہ داری بھی یہی تھی  ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی  کہ یہ چیونٹیاںاور برقی آلات کی جانب کیوں مائل ہوتی ہیں شاید  وہ بجلی کے تاروں کے اردگرد موجود برقی مقناطیسی فیلڈ کو محسوس کر لیتی ہیں یا پھر وہ الیکٹرانک سامان کے چلنے سے پیدا ہونے والی حرارت کو پسند کرتی ہیں  تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ان کی تارو بجلی کے علات اور سرکٹ بورڈ کی موجودگی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں وہاں سے کوئی خوراک وغیرہ ملتی ہے بلکہ وہ اس کی بڑی عجیب سائنسی وجہ بتاتے ہیں وہ یہ کہ جب کوئی چیونٹی برقی آلے میں داخل ہوتی تو اسے بجلی کے جھٹکے یا کرنٹ لگتا ہے جس پر اس کے جسم سے دوسری چیونٹیوں کے لئے خطرے کی علامت یا سگنل کے طور پر ایک کیمیائی مادہ نکلتا ہے  ۔ چیونٹیوں کے جسم پر موجود بال  اور اینٹینا کافی دور سے بھی اس مواد کی شناخت کر لیتے ہیں اور دوسری چیونٹیاں فوری طور پر اس کی طرف متوجہ ہوکر اس برقی آلے کی طرف چل پڑتے ہیں ایک بار جب کافی چیونٹیاں اپنے یہ خطرے کی گھنٹی کا نظام چالو کر دیں چیونٹیوں کی بڑی جھون کے جھون بڑی تیزی  سے اس جگہ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اس وجہ سے بجلی کے خراب  سامان کے اندر سے ان کی لاشوں کی ڈھیریاں برآمد ہوتی ہے جو اس سامان کی خرابی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔  دوستوں: چیونٹیوں کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی بہت عجیب ہوتا ہے ان کی کالینیوں  تما م ارکان  ہر کام کے دوران ہر دس سے پندرہ سیکنڈ میں اپنی ذمہ داریاں بدلتے رہتے ہیں یعنی ہر چیونٹیوں کی ذمیداری  ایک عام ورکر سے ایک لیڈر اور ایک لیڈر سے ایک عام ورکر میں نہایت تیزی سے بدلتی ہے جو کہ کافی حیران کن ہے۔  مگر بنیادی طور پر ایک بہت بڑے  کنبے یا خاندان میں ہونے والی سرگرمیوں کو ہم آہنگ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ جہاں دو سری بہت سی چیونٹیوں کی کالونیوں میں ایک ملکہ چوٹی ہوتی ہے۔ وہیں  کریزی اینٹھ کی ایک کالونی میں بہت ساری ملکائیں  ہوتی ہے۔ کسی بھی کالونیوں   میں آٹھ تک ملکائیں ہونا ایک عام سی بات ہے جبکہ کچھ کالونیوں میں سو ملکائیں دیکھی گئی ہے۔ دوسری چیونٹیوں میں ڈنگ مارنے کی صلاحیت ہوتی ہے جبکہ کریزی اینٹھ ایک مادہ خارج کرتی ہے جس سے وہ اپنے ان دشمنوں پر ساوری کی شکل میں پھینکتے ہیں جو ان کے راستوں میں آکر انہیں روک لیتی ہے چیونٹیاں اپنے جسم پر ایک حفاظتی کیمیکل یا تیزاب کا تئے  بنانے کی صلاحیت رکھتی ہےیہاں تک کہ اس میں پائی جانے والی سب سے قابل نفرت اور بدنام چیونٹیوں فار اینٹھ  زہرسے محفوظ رکھتی ہے۔ دراصل یہ حفاظتی تئے   ان کے لیے فار اینٹھ   زہر کیلئے کام کرتی ہےجب فار اینٹھ   اور کریزی اینٹھ   خراک کیلئے ایک دوسرے سے لڑتی ہے۔ تو 93 فیصد مقابلوں میں کریزی اینٹھ فاتح بنکر ابھرتی ہے یہ چیونٹیاں ہر قسم کی خوراک پر زندہ رہ سکتی ہے جن میں زندہ اور مردہ کیڑے جانور بھی اور کھانے پینے کی گھریلو اشیا ءشامل ہیں ان چیونٹیوں میں ہر قسم کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے اس لئے ان پر قابو پانا بھی بے انتہا  مشکل ہے   یہ مانا جاتا ہے کہ ان کا اصل علاقہ جنوبی امریکہ افریقہ اور ایشیا ہے اور یہ بحری جہازوں کے ذریعے امریکہ کے شہری علاقوں میں پہنچی ہے۔ ان کے بے تحاشہ پھیلاؤ کی وجہ سے خود کو انسان ہے دراصل  انسانوں  اور ان کے زیر استعمال اشیاء کی نقل و حرکت انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا باعث بنی ہے یہ چیونٹیاں رہائشی  مقاصد کے لیے بنائے گئی گاڑیوں  اور ٹرالوں میں سفر کرنے سے باغبانی سے متعلق مصنوعات کو بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک بھیجنے سے پرائوٹ لکڑی اور گھانس کے گٹھوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہے۔ ویسے یہ چیونٹیاں خود بھی بڑی خانہ بدوشوں کی مالک ہوتی ہے  اور کسی ایک جگہ زیادہ دیر تک  ٹک کر نہیں بیٹھتی۔ ان میں ایک بڑی تعداد جھیل کے کناروں چھوٹے  ندی نالوں اور کھاڑیوں کے آس پاس کے علاقوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔

یہ چھوٹی جو کہ نیم مرطوب علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس لیے سائنسدانوں کے مطابق شمال کی طرف پائے جانے والے ممالک میں زیادہ نہیں پہنچ سکتی فار اینٹھ  اور کریزی اینٹھ زیادہ خطرناک اور نقصان دہ نہیں ہوتا اگر یہ کاٹ لے تو تقریبا ایک منٹ کے بعد اس کے کاٹنے کا درد ختم ہوجاتا ہے اگرچہ یہ بہت زور سے نہیں کاٹتی لیکن یہ چیونٹیوں فطرت اور ماحول کو زبردست نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ جھن اور گھولکی شکل میں حملہ کرکے چھوٹے جانوروں اور پودوں کو تباہ و برباد اور ہلاک کر سکتی ہے یہ براہ راست پودوں سے سارا رس چوس لیگی   یہ چیونٹی اور مکڑی اس میں دوسری تمام حصرات کو عملی طور پر ختم کر سکتی ہے۔ حتا کہ یہ چہ چاہنے والے پرندوں کی صفائی بھی کر سکتی ہے۔ کیونکہ مکریوں کنجروں اور دیگر حصرات کی تعداد میں کمی کا مطلب پرندوں کے لیے خوراک کم ہوجانا ہے موجود تھا جو کہ ان کے خاتمے کی وجہ بن سکتا ہے اور کسی علاقے سے عام پرندوں کا ختم ہوجانا ماحولیاتی نظام میں زبردست قسم کی خلل اندازی ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں دوستو: کریزی اینٹھ  کو ایک کڑا مت سمجھیں کیوں کے ان پر ہونے والیے ریسرچ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ ہسپتالوں میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں ان کی انسانی آبادیوں میں گھس جانے کی صلاحیت سے لوگوں کو ہر وقت اپنے بجلی پانی اور گیس کے پائپ اور فیوز باکس سے اور دیگر سراکھ  یا خلع اور درار والی جگہ کے خراب ہونے کا خطرہ لگا رہتا ہے یہ چیونٹیاں کسی بھی دستیاب سورہ یاڈاسٹین میں گھوس کر اپنا گھونسلہ بنانے میں ماہر ہے اس لئے یہ  چھوٹےگھریلو  جانورمثلا میمنون چوزوں  انسانوں کے چھوٹے بچوں اور بوڑھے افراد کے لیے خطرہ ہے 2013 میں  ٹیساز یونورسیٹی  نے اس چونٹی آبادی کو قدرتی طریقے سے کنٹرول میں رکھنے کے طریقوں پر ریسرچ  کیلئے  2.7 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی  تھی سائنسدانوں کی کے نزدیک حلال کرنے کے ممکنہ طریقوں میں سے ایک ہیں ہوسکتا ہے کہ جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی فلوریٹ مکھیوں کو کریزی اینٹھ کی کثرت والے علاقوں میں چوڑاجائے یہ مکھی کریزی اینٹھ کے سروں پر انڈے دیتی ہے ایک بار جب انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے تو انڈے سے نکلنے وا لا روا کریزی اینٹھ  کا بھیجا  یا مغز کھالیتا ہےاور اسکی کھوپڑی توڑ کر باہر نکل آتا ہے۔  جس سے ظاہر ہے کہ چیونٹی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ محققین ان چونٹیوں  پر ایک خاص قسم کی بھی جانچ بھی کر رہی ہے کیا یہ دیگر جنگلی حیات کو نقصان پہنچائے بغیر صرف کریزی اینٹھ پر قابو پانے کا ایک ماحول دوظریعہ ہو سکتا ہے ویسے ت ان چونٹیوں پر  اسپرے بھی کیا جاتا ہے لیکن ایک تو یہ طریقہ بہت زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا اور دوسرا یہ کہ اس کیڑے مارکیمیکل  سے دوسرے جانوروں پودوں کو بھی نقصان ہوا ہے ۔  اسلئے سائنسدان  ان کی تعداد میں کمی کے قدرتی طریقوں کو استعمال کرنے پر زیادہ زور د یرہیے ہیں ۔دوسری جانب لوگوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ کیوں کی یہ نمی کے جانب راغب ہوتی ہے ۔  اس لیے لوگوں کو اپنے گھر کے آس پاس کی جگہ کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ کیا وہاں کوئی پودا یا  پتوں  ملبہ درخت کی شاخوں اورٹہینیوں کے  ٹکرے  وغیرہ تو نہیں ہے ۔  کیوں کے یہ چیزیں ان چونٹیوں  کے لیے آئیڈیل جگہ فراہم کر سکتی ہے۔علاوہ عظیم پانی نکاسی کے نظام کو مزید بہتر بنانے سے اور اس میں کسی بھی خرابی یا رساؤ کو فوری طور پر مرمت کرنے سے ان کی تعداد میں اضافے کو روکا جاسکتا ہے ماہرین کے مطابق ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ہمارے گھر  باغیچے آبادی اور اس کی دیوانی خون کھار   گھوسپیٹھیوں چونٹیوں کے حملوں اور پھیلاؤ سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی اور جادو کا آپس میں گہرا تعلق

2 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button