جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور جادو کا آپس میں گہرا تعلق

 اس جدید ٹیکنالوجی سے دجال کا  کیا تعلق ہے۔جدید ٹیکنالوجی جادو کا  کیا تعلق جانیں 

عزیز دوستو ماڑڈن ٹیکنالوجی  جس کے استعمال میں آج انسان کو عروج اور ترقی کے اعلیٰ مقام پر لاکھڑا کر دیا ہے واقعے حیران کن ہے تاہم ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ سب ترقی اور عروج اللہ ہی کی طرف سے انسان کو بچی گئی ہے۔ کیوں کہ اللہ پاک نے انسان کو یہ سب چیزیں بنانے اور ایجاد کرنے کے لئے علم و عقل کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ لیکن اس ماڑڈن ٹیکنالوجی کو تخلیق کرنے والوں کا کہنا اس سے کچھ الگ ہے  ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اور ترقی انہیں دجال کالے جادو اور شیطان کی طرف سے ملی ہے آج اس پوسٹ میں کچھ ایسے ہی نظریات اور سائنس دانوں کے بارے میں بتائیں گے جن کی بنائی گئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ لیکن ان کے مطابق یہ کارنامے صرف ان کے رہنما دجال کی مدد سے مکمل ہو سکے ہیں۔ دجال کے حامیوں کے نظریات کیا ہے اور کیا واقعی سائنسی ایجادات جال کی مرہون منت ہے ان کا تذکرہ کرنے سے قبل  سبھی دوستوں سے گزارش ہے لوگوں تک اس پوسٹ کو  ضرور پہچانا چاہئے شکریہ۔

 

"<yoastmark

دوستو:سب سے پہلے بات کرتے ہیں جیک پارسن نامی شخص کی جیک پارسن امریکہ کا بہت بڑا اور ذہین ترین راکیٹ انجنیئر  تھا جسے فادرا اسپیس ایجیسپی بھی کہا جاتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے پہلی مرتبہ راکیٹ  انجن ایجاد کیا تھا اور آج جو بھی ہم اسپیس ماڑڈن ٹیکنالوجی دیکھ ر ہے ہیں۔ وہ بھی اسی شخص کی وجہ سے  ممکن ہو سکی ہے۔ لیکن آج کی اس پوسٹ میں جیک پارسن کی راکیٹ سائنس کی بات نہیں کر رہے ہیں ۔  بلکہ اس کے عقیدے کے بارے میں آپ کو آگاہی دے رہے ہیں ۔  کہا جاتا ہے کہ جیک پارسن  شیطان کا پجاری تھا۔ اس کی موت 1992 کواسی کی لائب میں ہوٹی ۔ جہاں یہ بہت ہی خطرناک منصوبے کو سرانجام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اس میں کوئی خرابی آگئی جس کی وجہ سے اس کی اپنی موت واقع ہو گئی۔   اس کی موت کے بعد اس  کی لیب سے کالے رنگ کا کالا جادو رکھنے والا  با کس بر آمد ہوا  اس باکس پر عجیب وغریب طرح کے نشانات ہوتا ہے اس کے ساتھ کام کرنے والے اس کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ جیک اپنی اس لیباٹری میں ایک فرزی انسان بنانے کے لیے تجربات کر رہا تھا۔ 1948 میں  اس نے اپنی ڈائری میں اپنے ایک بہت ہی پر اسرار خواب کا بھی ذکروکیا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے خواب میں کسی شخص کو دیکھا تھا جو کہ  بیرلون المی لسن دجال تھا ۔ یعنی اس کے مطابق اس نے دجال ہی کو دیکھا تھا  جیک نے دجال سے کہا   صرف تم ہی میری مدد کر سکتے ہو۔ صرف تم ہی ہو جو مجھے سائنس اور جادو کی دنیا کا  کامیاب ترین انسان بنا سکتےہو  تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔

معزز دوستو:آج کا انسان ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ آگے بڑھ چکا ہے اور ٹیکنالوجی بھی ایسی جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہوں یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے یہ تو جادو یا کریشمہ ہی ہے۔ لیکن  در حقیقت ہم دجالی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ دجال کہاں اور کس شکل میں دنیا کے سامنے رونما ہوگا ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جس طرح دنیا تیزی کے ساتھ ماڑڈن ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہی ہے۔  اسی تیزی کے ساتھ  دجال  کے آنے  کا قریب تر آتا جا رہا ہے اس بات کو ؤپ خود بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ جس تیزی کے ساتھ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی میں ترقی ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی کسی دور میں نہیں ہوئی تھی۔ آج کے دور  میں ہم سیکینڈ سے بھی کم وقت میں  اپنا پیغام دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک با آسانی پہنچا سکتے ہیں اور سائنس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی دوسرے سیاروں میں زندگی تلاش کر رہی ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کس حد تک آگے بڑہیگی آپ سب کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے جن کا قصہ تو یاد ہی ہو گا جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے ملکہ صبہ  کا تخت ہزاروں میل دور اس کے محل تک پہنچا دیا تھا۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ لوگ اب اس بات پر غور کریں کہ انسان آج کی ماڑڈن ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنی موجودگی کو دنیا کے سامنے ظاہر کر سکتا ہے  اس سے شاید یہ مراد ہے کہ آج کا انسان کا  جنات سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے اور کیا یہ سارے ماڑڈن  ٹیکنالوجی کسی کالے جادو کی وجہ سے اپنے وجود میں آ رہی ہے۔

معزز دوستوں امریکہ کے ایک مشہور اسکالڑ شیخ حمزہ کا کہنا ہے۔ کہ جن سائندانوں نے ٹیکنالوجی کو اس وقت اس کے عروج پر پہنچا یا ہے ان سبھی  کا تعلق کہیں نہ کہیں کالے جادو سے لازمی تھا۔ اس کے بارے میں  مزید بتاتے ہوئے  ان ہوں نے ایک مشہور فلاسفر فرینسن بیکن کی ایک مشہور کتاب  نالیجیس پاور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ۔کہ یہ کتاب اس نے جادوئی دنیا سے اپنے تعلق کی وجہ سے لکھی تھی کیونکہ فرینسن بیکن ہر وقت جادو سے  تعلق رکھنے والی کتابیں پڑھتا  رہتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب نے صاف طور پر لکھا تھا کہ ماڑڈن سائنس اور ٹیکنالوجی جادو کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی  طرح مشہور مصنف آڑتھر سیک کالاس نے 1968میں ایک مشہور فلم اسپیس اڑڈائس کا اسکریپٹ لکھا شیخ حمزہ کہتے ہیں آڑتھر سیک کالاس کے پاس اس وقت  مستقبل میں بنائے جانے والے تمام خلائی جہازوں کا ایک نقشہ موجود تھا۔  اس کی وجہ سے موجودہ دور میں سیٹلائٹ کام کر رہے ہیں  ا1961 میں اس نے امریکہ کے نیوز چینل پر اپنے انٹر ویو میں انٹر ٹیٹ کے بارے میں۔میشنگوئی کی تھی اس نے مزید کہا  کہ 2000 تک انسانوں کے ہاتھوں میں ایسے عالات موجود ہوں گے جس کی مدد سے کوئی بھی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں موجود کسی بھی شخص سے باتیں کرنے کے قابل ہو جائے گی آڑتھر سیک کالاس کے مطابق کوئی بھی ٹیکنالوجی مشکل نہیں ہوتی جب تک اس میں جادو دخل انداز نہ ہو۔

دوستو: اس کے علاوہ موجودہ دور کی سب سے مشہور  اسماڑٹ فون کمپنی ایپل بھی اسی ایجنڈے پر بنائی گئی ہے۔ کہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کو نئی اور ماڑڈن ٹیکنالوجی کی طرف لایا جائے آپ لوگوں کو شاید یہ بھی جان کر حیرت ہو ایپل  کمپنی بھی الوگراتی  نامی  شیطانی گروہ کا حصہ ہے اس گروپ کا مقصد صرف اور صرف دجالی سلطنت کا قیام ہے آپ سب بخوبی جانتے ہیں آئی فون کمپنی کا لوگو  یعنی نشان ایک آدھ کھایا ہوا سیب ہے اس لوگو سے یہ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ در حقیقت اس لوگو کے پیچھے خفیہ شیطانی تنظیمیں موجود ہیں جو کہ آپ کو حقیقت سے کبھی بھی روشناس نہیں ہونے دیگی آئی فون کے اس کھائے ہوے سیب کے پیچھے اصل میں وہ پھل ہے جس کو کھانے کا لالچ دے کر شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوا دیا تھا اس ایجنڈے کے پیرو کاروں کا خیال ہے کہ ایپل کمپنی کی بدولت ٹرانسیومن ٹیکنالوجی کو دنیا کے سامنے متعارف کرواینگے  اس میں یہ انسان اور مشین کو ملا کر ایک نئی نسل پیدا کریں گے جس سے یہ لوگ سے  سگلائٹی کا نام  دیتے ہیں ۔ اس کے مطا لق گوگل کمپنی میں کام کرنے والے کوزوے نامی شخص کا کہنا ہے کہ ہم 2045 تک انسان اور مشینوں کو ملا کر ایک نیا انسان بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے  یہ لوگ خدا تعالی کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں نعوذاباللہ  شیخ ہمزہ  کا مزید کہنا ہے اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج کے وقت کا مطالعہ کریں تو آپ لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت جادو اور کیمبائی علوم عروض پہ تھے اور آج کی تمام تر سائنس اور ٹیکنالوجی اسی دور کے  علوم ہی کی وجہ سے ہے اس لئے آج کی ماڑڈن ٹیکنالوجی اور جادو کے درمیان بہت ہی خاص تعلق ہے آپ اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جو لوگ فلموں اور ٹی وی شوز میں کام کر رہے ہیں وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ لوگوں کے دماغ کو کس طرح کنٹرول کیا جاتا ہے جو کہ پہلے دور میں ایک بہت ہی خاص جادو کی مدد سے کیا جاتا ہے ہے یہ جادو آج بھی موجود ہیں جو کہ قبالہ کے نام سے مشہور ہے۔

دوستو:ٹی وی چینل پہ اینکرز  جو بھی آپ کو بتاتے ہیں آپ اسی کو سچ مان لیتے ہیں پھر چاہے وہ جھوٹی کیوں نہ ہو شیطان کے پجاریوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی خدا نے پہلے تھا اور نہیں اب موجوں ہیں  دجالی سائنسدان کہتے ہیں کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ایسی ٹیکنالوجی بنا لیں گے جس سے ہمیں خدا کا درجہ حاصل ہو جائے گا نعوذاباللہ   1927ہومن ٹرانس ٹیکنالوجی  پر سب سے پہلی فلم بنائی گئی تھی  اس فلم کا نام میٹروپولسز تھا اس میں  فلم ایک سائنسدان انسان اور مشینوں کو ملا کر ایک مشینی انسان بناتا ہے جسے اس فلم میں بھی مستقبل کے انسان کا درجہ حاصل ہوتا ہے جو کہ خود کو کسی بھی انسان کی شکل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا  ہے آج بھی زیادہ تر  پوپ میوزک اکثر گانوں میں پوپ سنگر اسی فلم میں دکھائی گئے مشینی انسان کے کپڑے پہن کر اسی کی طرح دکھائ دیتے ہیں   دنیا میں موجود شیطانی گروہ کے پیروکار  آج بھی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آج کا انسان جس طرح قدرتی عمل سے پیدا ہوتا ہے اسے  رد کرکے یہ لوگ مشینی انسان بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور وہ انسان بغیرروح کے کہیں زیادہ طاقتور اور  ذہین ہوگا یہ شیطانی گروہ جان بوجھ کر اللہ کے بنائے گئےقدرتی قوانین میں دخل انداز ہورہے ہیں لیکن شاید یہ بھول چکے ہیں کہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں انسان نے جب جب قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تب تبھی  تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا اس فہرست کی بات کریں تو سب سے پہلے فرعون اور نمرود کا واقعہ آتا ہے انہوں نے  خدائی کا دعوی کیا تو اللہ پاک نے کس طرح  ان  لوگوں کو پوری دنیا کے سامنے قیامت تک کے انسانوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا اس کے علاوہ قوم عاداورقوم ثمود  جنہوں نے خدا تعالی کی قدرت سے الجھنا چاہا لیکن وہ بھی نشان عبرت بن گئے۔

آخر میں دوستو: آج موجودہ دور یہ شیطانی پیرو کار ٹیکنالوجی کی بدولت خدائی کا دعویٰ کرنا چاہ رہے ہیں تو ان کا انجام بھی انہی جیسا ہو گا درحقیقت یہ لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال دجال کے لئے کر رہے ہیں جس سے یہ اپنا رہنما سمجھتے ہیں تاکہ جب وہ دنیا میں  آئے  جب وہ  دنیا میں ظاہرہو جب وہ باآسانی  سے اس دنیا کو کنٹرول کرسکے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں دجال اور اس کے فتنوں سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین  

یہ بھی پڑھیں:جانوروں کے درمیان ہونے والی جنگیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button