اردو بلاگ

WHO لوگو میں سانپ کیوں ہے؟

WHO لوگو میں سانپ کیوں ہے؟

ایک مشہور یونانی ماہر طب کسی جرم کی پاداش میں ایک قید خانے میں قید کیا گیا اسی قید خانے میں اس طبیب نے قریب المرگ لاعلاج مریضوں کا علاج دریافت کرلیا قید خانے میں اس طبیب کے ساتھ ایسا کونسا پورا واقعہ پیش آیا آج ہم اس مواد میں میں ہم اسی سے متعلق اور WHO لوگو میں سانپ کیوں ہے؟ اس کے بارے میں بتائیں گے۔

WHO لوگو کے پیچھے کی کہانی 

محترم دوستو :۔۔۔یونانی کہانیوں میں طبیب کا ایک ایسا دیوتا مشہور ہے جو کہ Asclepius کے نام سے جانا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ ماہر طب اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مل کر بہت سے علاقوں میں جڑی بوٹیاں تلاش کرتا اور ان کی دوائیاں بنا کر اپنے علاقے کے لوگوں کا علاج کرتا وہاں کے لوگ اپنے علاج کے معاملے میں Asclepius پر اندھا اعتماد کرتے تھے یہاں تک کہ موت کے علاوہ ہر قسم کے علاج کے لئے آسکلپئوس کو یاد کرتے  اور یہی چیز آہستہ آہستہ مختلف علاقوں میں اس کی شہرت کی وجہ بنتی جا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے یہاں مریضوں کا رش بڑھتا چلا گیا کہ اچانک اپنی اس فیلڈ میں کسی دشمن کی طرف سے جورم کے الزام میں Asclepius پر مقدمہ دائر ہو گیا اور اسے ایک قید خانے میں قید کردیا گیا۔

دوستو:۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن Asclepius قید خانے میں بیٹھا تھا کہ اچانک کہیں سے ایک سانپ نمودار ہوا اور اس کی طرف بڑھنے لگا اسے سانپ سے خوف محسوس ہوا تو بوکھلاہٹ کی حالت میں Asclepius نے اس کو مار ڈالا جیسے ہی وہ سانپ مرا تو Asclepius نے دیکھا کہ کہیں سے ایک اور سانپ نمودار ہوا جس نے منہ میں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں پکڑ رکھی تھی جیسے ہی وہ مرے ہوئے سانپ کے پاس جا کر اس کے منہ میں وہ جڑی بوٹیاں ڈالتا ہے اور سانپ کے اٹھ کر دوسرے سنپ کے ساتھ چل پڑتا ہے Asclepius ایسے منظر دیکھ کر حیران و پریشان رہ جاتا ہے اور سانپ کے جانے کے فورا بعد سانپ کے منہ سے گڑی چند جڑی بوٹیاں اٹھا لیتا ہے اور اس کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے اسی دوران اسے قید خانے میں موجود ایک ایسے شدید بیمار شخص کی اطلاع ملتی ہے جو کہ قریب المرگ ہوتا ہےAsclepius وہ جڑی بوٹیاں اس کے منہ میں ڈال دیتا ہے جس کے حلق سے نیچے اتارتے ہی وہ مریض زندگی کی جانبد واپس لوٹ آتا ہے۔ اس کے بعد جیسے ہی Asclepius قید خانے سے رہائی حاصل کرتا ہے سب سے پہلے جا کر اسی جڑی بوٹی پر تحقیق کرکے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے اور میں ڈھونڈنے کے بعد وہ بالآخر جڑی بوٹیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس کے بعد ایک مخصوص آمیزہ بنا کر اسے اس قابل بنا دیتا ہے کہ موت کی جانب بڑھتے کسی بھی جاندار کو زندگی دے سکے۔

جی ہاں دوستو! ایک طویل عرصے تک محنتوں کی وجہ سے Asclepius اس قابل ہو جاتا ہے کہ قریب المرگ لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لوٹا سکے اور یہی اس کا نسخہ اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے جس کی وجہ سے دور دراز سے لوگ اپنے پیاروں کے لیے Asclepius کے پاس آتے جو کہ اپنی مہارت سے لوگوں کو زندگیاں مہیا کرنے لگا، کہا جاتا ہے کہ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ انتہائی صحت مند زندگی گزارنے لگے یہاں تک کہ بیمار نہ ہونے کے سبب یہ لوگ اپنے دیوتاؤں کو بھی بھول گئے اور عیاشی سے زندگی بسر کرنے لگے جس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے دیوتاؤں کو ناراض کر بیٹھے اور تمام دیوتا غضبناک ہو کر Asclepius پر ٹوٹ پڑے اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا کہا جاتا ہے کہ جب Asclepius مارا تو چونکہ اس نے کسی دوسرے کو اپنا ہنر نہیں سکھایا تھا لہذا مرتے وقت اس کا کوئی بھی علاج نہ کر سکا اور یوں Asclepius اپنے انجام کو پہنچ گیا جس کے بعد لوگ اسے دیوتا کی طرح سمجھنے لگے اور اس کا مجسمہ بنا کر محفوظ کرنے لگے واضح رہے کہ سانپوں سے یہ علم حاصل کرنے کی بنا پر Asclepius کے مجسمے کے ساتھ ایک لاٹھی بناکر اس پر سانپ بھی بنایا گیا جو کہ Rod of Asclepius کے نام سے آج بھی مشہور ہے اور دنیا کا صحت کے حوالے سے سب سے بڑا عالم عالمی ادارہ WHO کے دنیا بھر کے لوگوں کو صحت مندانہ زندگی مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس عالمی ادارہ کا لوگو دیکھیں تو وہ بھی Rod of Asclepius پر مشتمل ہے جسے دیکھ کر اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے؟ کہ سانپ تو خطرے کی علامت ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک خطرے کی علامت سمجھی جانے والی چیز کو ایک ایسا ادارہ اپنا لوگو بناتا ہے جو کہ دنیا بھر میں صحت کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔

WHO لوگو کی اصل کہانی یہ ہے

تو دوستو یونانی قدیم اساطیری کہانی WHO لوگو کی اصل وجہ ہے نہ صرف ڈبلیو ایچ او بلکہ کوئی بھی صحت سے متعلق ادارہ ہوں اکثر کمپنیاں اس لوگو کو استعمال کرتی نظر آتی ہیں جس کا مطلب ہرگز خطرے کی علامت نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپا راز دراصل Rod of Asclepius ہی ہے جس نے سانپوں کی بدولت قریب المرگ لوگوں کو زندگی کی طرف لوٹ آ کر ہزاروں لوگوں کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button